قتل: کے نتائج

برہان الدین ربانی کے قتل میں ملوث ہیں اور نہ ہی پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے رابطے ہیں۔ سراج الدین حقانی

برطانوی نشریاتی ادارے کودیئے گئےایک انٹرویو میں سراج الدین حقانی کا کہناتھاکہ ان سے امریکی خفیہ ایجنسیوں نے رابطہ کیا تھا جو چاہتی تھیں کہ ان کا گروپ افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کرے۔ انہوں نے ان الزامات کی تردید کی کہ حقانی گروپ کابل میں ہونے والے حالیہ حملوں میں ملوث ہےیا پھر انہیں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے ہدایات ملتی ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا ہےکہ کابل میں ہونے والے حالیہ حملوںمیں فوجی کونسل ملوث ہے۔

افغان صدارتی محل کے حکام نے الزام لگایا ہے کہ سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کا قاتل پاکستانی تھا اور انکے قتل میں آئی ایس آئی ملوث ہے

افغان صدارتی محل سے جاری ایک بیان کے مطابق برہان الدین ربانی کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم حمید اللہ نامی پاکستانی کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور اسکے قبضے سے ملنے والی دستاویزات ، تصاویر،آڈیو اور ویڈیو ثبوت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ برہان الدین ربانی کے قتل کا منصوبہ پاکستان میں بنایا گیا تھا اورآئی ایس آئی نے برہان الدین ربانی کے قتل میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔بیان میں کہا گیا کہ تمام تر ثبوت اوردستاویزات کابل میں موجود پاکستانی سفارت خانے کو دے دیے گئے ہیں اوردستاویزات سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے

برطانیہ میں تین پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں مزید تین افراد پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے

ہارون جہاں، شہزاد علی اور عبدالمصور نامی پاکستانیوں کو لندن میں ہنگامہ آرائی کے دوران کار سے کچل کر ہلاک کردیا گیا تھا، عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ مقتولین نےایک مسجد کی حفاظت کرتے ہوئے جان کی بازی لگادی تھی،غیر ملکی نیوزایجنسی کے مطابق ان تین پاکستانیوں کو قتل کرنے والے تین ملزمان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ واضح رہے کہ مذکورہ پاکستانیوں کے قتل کے الزام مین اب تک آٹھ افراد پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔

مزید نتائج