تازہ ترین:

عثمانی: کے نتائج

جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس امیرہانی مسلم نے سپریم کورٹ کے جج جبکہ جسٹس مشیرعالم نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی حیثیت سے حلف اٹھالیا

سپریم کورٹ بلڈنگ اسلام آباد میں ہونےوالی تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس امیر ہانی مسلم سے حلف لیا۔ تقریب میں سپریم کورٹ کےجج صاحبان ، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور سنیئر وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی،جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس امیرہانی مسلم کے حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد سترہ ہوگئی ہے۔ دوسری جانب جسٹس مشیرعالم نے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی حثیت سے عہدے کا حلف اٹھایا ۔ سندھ ہائیکورٹ میں ہونے والی تقریب حلف برداری

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا ہےکہ ہمارے فیصلوں سےعوام کا عدلیہ پراعتماد بحال ہوا ہے اور امید ہے کہ انے والے جج صاحبان بھی عوام کو انصاف فراہم کرنےمیں اہم کردار ادا کریں گے۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سرمد جلال عثمانی اور جسٹس امیر ہانی مسلم کی سپریم کورٹ میں تقرری کے بعد سندھ ہائیکورٹ میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پرچیف جسٹس ثرمد جلال عثمانی نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میرے گھر کی طرح ہے اور میں نے یہاں پرجتنے بھی مقدمات نمٹائے ہیں ان کو ذاتی اہمیت دی۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے جیلوں میں قیدیوں کی اصلاح کے لیے بہت کام کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیےخوشی اورغم کا لمحہ ہے،خوشی اس بات کی ہے کہ ہماری سپریم کورٹ میں تقرری کی گئی ہے لیکن اس بات کا دکھ بھی ہے کہ ہم

سپریم کورٹ کے نامزد جج جسٹس سرمد جلال عثمانی کو تین اگست دوہزار نو میں سندھ ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقررکیا گیا تھا۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی تیرہ اکتوبر انیس سو پچاس کو صوبائی دارالحکومت لاہورمیں پیدا ہوئے۔ انہوں نے میٹرک انیس سو چھیاسٹھ میں انتھونی ہائی سکول لاہور سے کیا۔ انیس سو اکہتر میں پشاور یونیورسٹی سے بی اے اورانیس سو پچھہتر میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ایل ایل ایم انیس سو اٹھہتر میں لندن سے کیا۔ وطن واپسی پر بحثیت وکیل اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغازکیا۔ کرمینل لاز کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تجارت ، بینکنگ اور ٹیکس لاز میں مہارت کے حوالے سے انہوں نے جلد ہی

مزید نتائج