تازہ ترین:

ضلع: کے نتائج

ضلع بدین میں متاثرین سیلاب کی تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کرگئی ہے جبکہ بڑی تعداد میں متاثرین کی آمد کا سلسلہ بدستورجاری ہے۔

وقت نیوزکےنمائندے کےمطابق گولارچی کی کرکٹ گراؤنڈ میں دس ہزار متاثرین کے لیے ٹینٹ سٹی قائم کردیا گیا ہے۔ ادھرجاتی میں مشیر وزیراعلی سندھ غلام قادر ملکانی بیرسٹر حسنین مرزا اوردیگرنے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ پانی کا رخ تبدیل کرکے جاتی کو بچانے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے تاہم جاتی کی چھ یونین کونسلوں کے ڈیرہ لاکھ سے زائد لوگ سیلابی پانی سے متاثرہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ای ڈی او ریونیو اورڈی ڈی آر متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے دن رات کام کررہےہیں۔

ایم ایس بند میں پڑنے والے شگاف کے بعد سیلابی ریلہ ضلع ٹھٹھہ کے شہرجاتی میں داخل ہوگیا ہے۔

سیلابی ریلے سے جاتی سجاول شاہراہ زیر آب آگئی ہے اور پانی جاتی شہر میں داخل ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ سیلاب سے متعدد دیہات اور سجاول چوہڑ جمالی شاہراہ بھی زیر آب آگئی ہے ۔ شہداد کوٹ سے آنے والا سیلابی ریلا خیر پور ناتھن شاہ شہرسے ایک کلومیٹر دور رہ گیا ہے ۔ خیرپورنا تھن شہرکی ستر فیصد آبادی نقل مکانی کر چکی ہے۔ دوسری جانب ایم این وی ڈرین میں پڑنے والے شگاف ریلا خانپوراور انڈس ہائی وے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ضلع ٹھٹھہ کے شہر سجاول اور گرد ونواح میں تاحال پا نی کھڑا ہے ۔ ضلع قمبر شہداد کوٹ کے علاقوں وارہ

جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض تیزی سے پھیلنے لگے ، ضلع راجن پورمیں گیسٹرو کے مریضوں کی تعداد سولہ ہزارسے تجاوز کرگئی

پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح بتدریج کم ہورہی ہے تاہم ان علاقوں میں گیسٹرو اور ملیریا نے وبائی امراض کی شکل اختیارکرلی ہے ۔ ڈائریکٹرہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹرتنویرکے مطابق ضلع راجن پورمیں گیسٹرو کے مریضوں کی تعداد سولہ ہزارسے زائد ہوچکی ہے جبکہ اب تک اس ضلع میں پینتیس افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ محکمہ صحت کی ٹیمیں ریلیف کیمپوں اورمتاثرہ علاقوں میں گیسٹرو کے مریضوں کو ویکسینیشن دے رہی ہیں ۔ ان علاقوں میں بچے زیادہ متاثر ہورہے ہیں ۔ دوسری جانب جامپور، کوٹ مٹھن اور

مزید نتائج