تازہ ترین:

شہرسے: کے نتائج

دریائے سندھ پر فقیرجو گوٹھ بند میں شگاف پڑنے سے سیلابی پانی ٹھٹھہ شہرسے تین کلومیٹر دور رہ گیا، شہر کی اسی فیصد آبادی نکل مکانی کرچکی ہے

ٹھٹھہ میں دریائے سندھ کے مختلف حفاظتی بندوں میں شگاف پڑنے اور سیلابی ریلا شہر کی جانب بڑھنے کے بعد لوگ بڑی تعداد میں نکل مکانی کررہے ہیں۔ شہر سے بچوں اور خواتین کو نکال لیا گیا ہے جبکہ قلیل تعداد میں مرد حضرات اپنی املاک کی حفاظت کے لئے موجود ہیں، شہر میں ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں ۔ شہر کی مارکیٹیں بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو پینے کے صاف پانی اوراشیائے خوردونوش کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ادھر چھتو چنڈ نہرمیں پچاس فٹ چوڑے شگاف سے کئی دیہات زیرآب آگئے اور پانی نیشنل ہائی وے

ضلع جعفرآباد کا ملک کے دیگرحصوں سے زمینی رابطہ گیارہویں روز بھی منقطع رہا، شہرسے سیلابی پانی کے نکاس کیلئے ابھی تک کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

دریائے سندھ میں آنے والے تاریخ کے بدترین سیلاب نے جہاں ملک کے مختلف علاقوں کو تباہی سے دوچار کیا ہے وہاں بلوچستان کا ضلع جعفرآباد بھی تباہ حالی کا منظرپیش کررہا ہے۔ سینکڑوں افراد تاحال سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ٹرینوں اور ٹرکوں کی آمدورفت بند ہونے سے شہرمیں غذائی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن نصیب اللہ نے وقت نیوز سے گفتگو میں کہا کہ جعفرآباد شہر میں کھڑے پانی کو نکالنے کیلئے حکام سے جدید مشینری طلب کرلی گئی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ کوشش ہے کہ جعفرآباد سے سیلابی پانی کا نکاس دو تین

دریائے سندھ میں چشمہ اورتونسہ بیراج کے مقام پرانتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے ادھرمظفرگڑھ شہرسے سیلاب کا خطرہ ٹل جانے کے بعد انتظامیہ نے لوگوں اپنے گھرواپس جانے کی اجازت دیدی ہے ۔

جنوبی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں ۔ سیلابی پانی سے میانوالی ، بھکر، لیہ ، مظفرگڑھ ، راجن پوراور رحیم یارخان میں ہزاروں دیہات اور قصبے صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں ۔ بے گھر ہونیوالے لاکھوں افراد نے ریلوے ٹریکس کے قریب ، سڑکوں ، ریت کے ٹیلوں اور حفاطتی بندوں پرپناہ لے رکھی ہے ۔ ضلع مظفرگڑھ میں سرکاری امداد صرف سڑکوں پرموجود متاثرین کو مل رہی ہے جبکہ دوردراز کے کئی علاقوں میں تاحال متاثرین کی بڑی تعداد اب بھی بے یارومدد گار پڑی ہے۔ اس وقت سیلابی ریلا مظفرگڑھ کے علاقوں وسندے والی اور