تازہ ترین:

شہداد: کے نتائج

سیلاب سے دادو‘ میہڑ‘ جوہی کو بچانے کیلئے کوششیں‘ شہداد کوٹ کو خطرہ ٹل گیا

دادو + ٹھٹھہ (اے ایف پی + مانیٹرنگ نیوز) سیلاب سے دادو اور تحصیل جوہی اور میہڑ کو بچانے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جوہی کا دادو سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ آبی ریلا میہڑ کے حفاظتی بند سے ٹکرا گیا سیلاب سے دادو کی 3 تحصیلیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ شہداد کوٹ کو خطرہ ٹل گیا جس

دریائے سندھ کے سیلابی ریلے سے دادو خیرپورناتھن شاہ کے قریب ایم این وی ڈرین میں شگاف پڑنے کے باعث اسی دیہات زیرآب آگئے۔

سیلابی ریلا ضلع قمبر شہدادکوٹ کے علاقے نصیر آباد اور ضلع لاڑکانہ کے شہروں باڈہ اور وارہ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ گاجی کھاوڑ میں تین حفاظتی بند بہہ جانے سے پورا علاقہ اور سیم کینال میں پڑنے والے شگاف سے گوٹھ جلبانی سمیت تیرہ دیہات زیرآب آچکے ہیں۔  دوسری جانب شہداد کوٹ کے عارضی حفاظتی بند پر سیلاب کا شدید دباؤ ہے۔  لاڑکانہ کے قریب سیم کینال میں پڑنے والے شگافوں کو اب تک ُپرنہیں جاسکا جس کے باعث تیرہ دیہات زیرآب آچکے ہیں۔ اُدھر ٹھٹھہ کی تحصیل سجاول میں انتظامیہ کی جانب سے پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لئے

سندھ میں پاک فوج اور بحریہ کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں،سجوال، شہداد کوٹ اور الموکوٹ میں ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کے ذریعے پانی میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جارہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے گڑی خیرو سندھ  کے سیلاب میں پھنسے ایک ہی خاندان کے چھبیس افراد کومحفوظ مقام پرمنتقل کردیا ہے، یہ لوگ کچھ کھائے پیئے بغیر گذشتہ پانچ روز سے وہاں محصور تھے۔ دوسری طرف پاک فوج کے انجنیئرز نے سول انتظامیہ کی امداد سے جام پور روجھان فلڈ بند اوربندھ سے سناوان میں ریلوے ٹریک کوآمدورفت کیلئے بحال کردیا ہےاور کوٹ ادو کے قریب ایک فیلڈ ہسپتال بھی قائم کردیاہے جبکہ مظفرگڑھ کے فیلڈ ہاسپٹل میں اردن کے نو ڈاکٹرز طبی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔پاک بحریہ کے ترجمان کے

مزید نتائج