تازہ ترین:

شگافوں: کے نتائج

سندھ بھرمیں بارشوں ،سیلاب اورسیم نالوں میں پڑنے والے شگافوں کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ابھی تک پانی میں پھنسے ہوئے ہیں

سندھ کے آفت زدہ علاقوں میں آرمی ،نیوی ، رینجرز اور دیگر ریسکیو ٹیمیں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کام جاری ہے۔ سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں بدین، کوشکئی، ٹنڈو محمد خان، میرپورخاص، اورڈگری میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن کے دوران ہزاروں افراد کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے ۔ بدین ضلع کی دس یونین کونسلوں کے سینکڑوں دیہات کے ہزاروں عوام ابھی تک پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ضلع بدین میں اٹھارہ لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں جن کو راشن

وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے سیلاب کے دوران دریائے سندھ کے حفاظتی پشتوں میں پڑنے والے شگافوں کی مرمت پندرہ جنوری تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے

کراچی میں وزیراعلی سندھ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا کہ سیلاب کے دوران گڈو بیراج کی حدود میںچھانوے اور کوٹری بیراج کی حدود میںچودہ سو ساٹھ شگاف پڑے جن کی مرمت کا پچاس فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ بقیہ کام تکمیل کے لیےمحکمہ کو اٹھارہ کروڑروپے درکار ہیں۔وزیراعلی سندھ نے محکمہ آبپاشی حکام کو ہدایت کی کہ بقیہ کام پندرہ جنوری تک مکمل کیا جائے۔ فنڈز کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کیا جائے گا،اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ زراعت نے اب تک سیلاب سے متاثرہ زرعی اراضی کی بحالی کے لیے

لاڑکانہ کے قریب سیم کینال میں پڑنے والے شگافوں کو اب تک ُپر نہیں جاسکا جس کے باعث تیرہ دیہات زیرآب آگئے ہیں۔

خیرپورناتھن شاہ کے قریب ایم این وی ڈرین میں شگاف پڑنے سے قریبی دیہات زیرآب آگئے ہیں ۔ گاجی کھاوڑ میں تین حفاظتی بند بہہ جانے سے پورا علاقہ اور سیم کینال میں پڑنے والے شگاف سے گوٹھ جلبانی سمیت تیرہ دیہات زیرآب آ چکے ہیں۔ سیلابی ریلا ضلع قمبر شہدادکوٹ کے علاقے نصیر آباد اور ضلع لاڑکانہ کے شہروں باڈہ اور وارہ کی جانب بڑھ رہاہے۔ دوسری جانب شہداد کوٹ کے عارضی حفاظتی بند پر سیلاب کا شدید دباؤ ہے۔انتظامیہ کے مطابق شہداد کوٹ شہر آئندہ چوبیس گھنٹوں تک خطرے کی زد میں رہے گا۔ ادھر ٹھٹھہ کی تحصیل سجاول میں