اتوار سے اس بندرگاہی شہر میں کارروائیاں شروع کی گئیں جن میں بحری طاقت بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ شامی حکام نے بحریہ کے اس آپریشن میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے نے ایک شامی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ لاذقیہ میں مسلح شرپسندوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ دوسری جانب امریکہ اور برطانیہ نے لطاقیہ میں شہری ہلاکتوں کی شدید مذمت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے سعودی عرب اور ترکی پر زور دیا کہ وہ بشار الاسد پر اقتدار چھوڑنے کے دباؤ ڈالیں۔ ادھرایران اور وینزویلا نے شام اور لیبیا