جعلی وکیل تنویر احمد لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس افتخار حسین چوہدری کی عدالت میں مقدمہ کی پیروی کے بعد باہر نکلا تو مخالف وکیل نے شک گذرنے پراس سے کوائف مانگے۔ تنویر احمداپنی اسناد کے حوالے سے مطمئن نہیں کرسکا جس پروہاں موجود وکلاء نے اسے تشدد کانشانہ بنایا اور پولیس کے حوالے کردیا۔ تنویراحمد کا کہنا تھاکہ وہ پندرہ سال سے لاہورہائیکورٹ اورماتحت عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کررہا ہے۔ پولیس نے تنویراحمد کے خلاف تھانہ نیو انار کلی میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔