سٹینڈنگ: کے نتائج

صوبوں کو منتقل ہونے والی وزارتوں سے متعلق سٹینڈنگ کمیٹیاں بدستور موجود

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ) اٹھارھویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کی جانے والی 10 وزارتوں سے متعلق قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹیاں بدستور موجود ہیں‘ ان کمیٹیوں کے چیئرمین ابھی تک تنخواہیں وصول کر رہے ہیں اور سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔ ”نوائے وقت“ کو قابل

چیئرمین سینٹ سٹینڈنگ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام سینیٹرمحمد ادریس صافی نے پی ٹی سی ایل ملازمین کے پُرامن احتجاج کے خلاف پولیس کاروائی کی سخت مذمت کی ہے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا ہے کہ پرائیویٹائزیشن معاہدے کے تحت حکومت پاکستان پی ٹی سی ایل ملازمین کے حقوق کی ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرے کیونکہ ملک پہلے ہی غربت اور بے روزگاری کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایمرجینسی میٹنگ بلائیں گے۔

قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ریلوے کے چئیرمین سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ریلوے کے ذمہ پچاس ارب روپے کا قرضہ اگرحکومت ادا کردے تو اس کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

قومی  اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ریلوے کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ریلوے کی حالت صرف ٹریک ٹھیک کرنے یا نئےانجن خریدنے سے بہتر نہیں ہو گی بلکہ خسارے کو کم کرنے کیلئے موثر اقدامات کرنا ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، غریب آدمی کی سواری کی طرف وہ توجہ نہیں دے رہی جو اسے دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا خسارے میں چلنی والی ایک سو دو ٹرینیں بند کرکے دس ارب روپے کا سالانہ خسارہ کم کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر چئیرمین ریلوے آپریشن سمیع خلجی نے کہا کہ گاڑیاں بند کرنے کی

مزید نتائج