چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی بینچ نے حج کرپشن کیس کی سماعت کی ۔ ڈی جی ایف آئی اے تحسین انور نے عدالت کو بتایا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے حسین اصغر چھبیس جولائی کو سکردو سے اسلام آباد کے لیے بائی روڈ روانہ ہوئے تھے۔ دو روز گزرنے کے باوجود ان سے رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔ جس پر جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیئے کہ ایک صوبے کا آئی جی کہا ں چلا گیا کسی کو معلوم نہیں تو لاپتہ افراد کے بارے میں آپ کیا معلوم کرتے ہوں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عجیب بات ہے کہ سپریم کورٹ ،ایف آئی اے