تازہ ترین:

سندھ کے: کے نتائج

سیلابی ریلا سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کی تحصیل سجاول میں تباہی مچاتا ہوا  بدین کے سرحدی علاقوں میں داخل ہوگیا ہے۔

سیلابی ریلے سے ضلع ٹھٹھہ کی تحصیل سجاول کے پچاس سے زائد دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئےہیں اور ہزاروں ایکڑ رقبہ زیرآب آچکا ہے ۔  سیلاب کی وجہ سے سجاول کا بدین اورٹھٹھہ سے رابطہ دودن سے منقطع ہے۔ سجاول گرڈ سٹیشن میں پانی آنے سے تحصیل سجاول، میرپوربٹھورو، جاتی اورتحصیل شاہ بندر کی بجلی چاردن سے بند ہے۔ اب سیلابی ریلا ضلع بدین کے سرحدی علاقوں دیوان شوگرملز اور بڈھا ٹالپورکے ارد گرد تباہی مچارہا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے بدین سے کراچی کا راستہ دودن سے بند ہے۔ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر اس سے آگے کے علاقے

سندھ کے مختلف مقامات پرحفاظتی بندوں اورکیرتھر کینال میں شگاف کے باعث ٹھٹھ،شہدادکوٹ،دادو اور رتوڈیرو کوخطرات لاحق ہیں۔ 

دریائے سندھ کا سیلابی پانی قمبرشہداد کوٹ کے دیہات میں تباہی مچانے کے بعد ضلع دادو کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے باعث ڈی سی او دادو نے ضلع کے تمام دیہات خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ محکمہ آبپاشی کے حکام کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کی سطح منچھر جھیل سے زیادہ ہے جس کے باعث مزید کئی علاقے زیرآب آسکتے ہیں۔ضلع ٹھٹھہ میں بھریا شیدی موری اور وسو بروہی کے مقام پر حفاظتی بند میں شگاف پڑنے کے بعد ٹھٹھہ شہرسے تقریباً ستر فیصد آبادی کا انخلا ہوچکا ہے، تاہم اب بھی ہزاروں لوگ شہر میں موجود ہیں۔ بند کے پشتوں پر

دریائے سندھ کے دوسرے بڑے سیلابی ریلے سے جیکب آباد کے بعد دادو میں کئی دیہات زیرآب آگئے، ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا جارہا ہے ۔

دادو کے مقام پردریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے اردگرد کے درجنوں دیہات زیرآب آچکے ہیں۔ سیلاب کی شدت کم کرنے کےلیے دریائے سندھ کا پانی سیم نالے میں چھوڑا گیا تاہم نالے میں بھی پانی کی سطح بلند ہوگئی اور وسیع علاقے کو پانی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دادو کی تحصیل میہڑ میں لاڑکانہ، سیہون بچاؤ بند میں شگاف پڑنے سے متعدد دیہات اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیرآب آگئیں۔ سیلابی ریلے کی وجہ سے مٹھن کوٹ کی بیس سے زائد بستیاں اور کوٹلا اندرون ڈوب گیا ہے۔ لاڑکانہ میں نصرت لوپ بند، عاقل آگانی بند