اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کرے گا جس میں بنک کے حکام کو حکومت کے فیصلے سے آگاہ کر دیا جائے گا ۔ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ آئندہ دو تین سال میں پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے لہذا پاکستان قرض پروگرام ختم کرنے کے باوجود معاشی اصلاحات جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ کا مسئلہ سوچ سے زیادہ گھمبیر ہے اور اس کے حل کے لیے موثراقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔