زدہ: کے نتائج

سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں کاروبار زندگی معطل، ہیضہ اورملیریا سمیت دیگر وبائی امراض نے لوگوں کا جینا محال کردیا

ضلع بدین میں طوفانی بارشوں کے بعد سیم نالوں اور نہروں میں کئی شگاف پڑ گئے جن کی مرمت کا کام ابھی شروع نہیں ہوسکا ہے۔ ان شگافوں سے نکلنے والے سیلابی ریلے بدستور پنگریو،کھوسکی،ٹنڈو باگو سمیت ضلع بھر میں تباہی مچارہے ہیں۔ضلع ٹھٹھہ کے علاقوں جاتی،سجاول،میر پور بٹھورو کے سینکڑوں دیہات میں بھی بارش کا پانی موجود ہے جس سے شہری پریشان ہیں۔ میر پور خاص،جھڈو،نوکوٹ اور عمرکوٹ میں بھی بارش کا پانی شہریوں کے لئے وبال جان بنا ہوا ہے۔خیر پورکی تحصیلوں کوٹ ڈی جی،نارا اور فیض گنج میں سیلابی پانی میں بہہ جانے

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بدین اور سانگھڑ سمیت سندھ کے دیگر سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اورامدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی نے پہلے بدین کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاک فوج کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا۔ جنرل کیانی نے کلوئی میں فوجی جوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے جوان قوم کی خدمت کرکے اپنا فرض پورا کررہے ہیں۔ پاک فوج مشکل کی ہر گھڑی میں قوم کی خدمت اورمدد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے متاثرین کی بحالی کے لیے کی گئی جوانوں کی کوششوں کو سراہا۔ اس کے بعد جنرل کیانی سانگھڑ پہنچے جہاں انہوں نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں قائم ریلیف اورمیڈیکل کیمپس کادورہ کیا

سندھ کےسیلاب زدہ علاقے بدستور پانی کی لپیٹ میں، اشیائے خوردو نوش کی ترسیل اورامدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا

این ڈی ایم اے کے ترجمان ارشاد بھٹی نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اس وقت سندھ کے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ تئیس اضلاع میں سے زیادہ تر میں امدادی سامان کی ترسیل کا مسئلہ سنگین ہوتاجارہا ہے۔ ان علاقوں میں متاثرین ٹولیوں کی شکل میں بکھرے ہوئے ہیں جنہیں منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت امدادی سامان اور خیمے تودستیاب ہیں لیکن ان کو متاثرہ علاقوں میں پہنچانے کے لیے اہلکار موجود نہیں ہیں۔ان کے مطابق اسی لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہیں اور امدادی کیمپوں میں متاثرین کی تعداد میں مسلسل

مزید نتائج