ریگولیٹری: کے نتائج

اٹامک انرجی کمشن اور نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کےلئے 22 ارب 35کروڑ رکھے گئے

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی بجٹ میں پاکستان اٹامک انرجی کمشن کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 22 ارب جبکہ پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کیلئے 35کروڑ روپے مختص کئے گئے ہےں۔ بجٹ دستاویز کے مطابق پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام 2011-12ءمیں پاکستان اٹامک انرجی کمشن کے زیر التواء22

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے تیل کے سٹاک نہ رکھنے اور قوانین کی خلاف ورزی پر آئل کمپنیوں کو جرمانے کر دئیے ہیں۔

حکومت کے زیر انتظام چلنے والی کمپنی پاکستان سٹیٹ آئل کو سب سے زیادہ،ساڑھے چھ لاکھ روپے کا جرمانہ کیا گیا۔ شیل پاکستان کو ڈیڑھ لاکھ، کالٹیکس کو پچاس ہزار، ایڈمور کو ایک لاکھ ،پارکو کو پچاس ہزار اور اٹک پیٹرولیم کو ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔ اوگرا کا کہنا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوالٹی کی مانیٹرنگ کے لیے اوگرا نے چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، جو کہ ملک کےمختلف حصوں میں پٹرول سٹیشنز پر کارروائی کریں گی۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی کے صارفین کے لئے اٹھاون پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کردیا، فیصلے کا اطلاق کراچی کے صارفین پر نہیں ہو گا۔

نیپرا نے ملک میں کام کرنے والی واپڈا کی آٹھ تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے نرخوں میں ردو بدل سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران نیپرا نے دسمبر میں پیدا کی جانے والی بجلی اور اس کی پیداواری لاگت کے امور کا جائزہ لیا۔ سماعت کےبعد نیپرا نے بجلی تقسیم کار آٹھ کمپنیوں کے صارفین کے لئے اٹھاون پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا ہے۔ قیمتوں میں کمی کا اطلاق دسمبر دو ہزاردس سے کیا جائے گااور فروری کے بلوں میں صارفین کو اس کمی کا فائدہ ملے گا۔ سمری وزارت پانی و بجلی کو بھجوا دی گئی ہے جس کا جلد

مزید نتائج