رچرڈ: کے نتائج

امریکہ میں رچرڈ ہالبروک کی یاد میں تعزیتی اجلاس میں پاکستان اورافغانستان کے لئے آنجہانی امریکی نمائندے کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا

واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس میں صدر آصف زردای اور امریکی صدر باراک اوباما کے علاوہ دیگر حکام بھی شریک ہوئے،اس موقع پر رچرڈ ہالبروک کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا، امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے خطاب میں کہا کہ رچرڈ ہالبروک اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ پاکستان اورافغانستان کا مستقبل ایک دوسرے سے وابستہ ہے اور وہ دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کے لئے سرگرم رہے۔ باراک اوباما نے کہا کہ رچرڈ ہالبروک نہ صرف پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لئے کوشاں رہے بلکہ انہوں نے امریکہ اورپاکستان

صدر آصف علی زرداری رچرڈ ہالبروک کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کیلیے امریکہ روانہ ہو گئے ، روانگی سے قبل صدر مملکت کی نواز شریف، اسفند یارولی ، فضل الرحمان اور الطاف حسین سے ٹیلی فون پر بات چیت

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک کی آخری رسومات میں شرکت کے ساتھ ساتھ صدر آصف علی زرداری امریکی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال بھی کریں گے۔ امریکہ روانہ ہونے سے پہلے صدر نے نواز شریف، اسفند یار ولی، الطاف حسین اور مولانا فضل الرحمان کو ٹیلی فون کر کے دورہ امریکہ کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔ صدر نے حالیہ سیاسی بحران کے دوران مثبت کردار ادا کرنے پر نواز شریف ، اسفند یار ولی اور الطاف حسین کا شکریہ بھی ادا کیا جبکہ مولانا فضل الرحمان

امریکی جریدے کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی رچرڈ ہالبروک افغانستان کو دوسرا ویت نام سمجھتے تھے اور افغان جنگ کی ناکامی ہی ان کی موت کا سبب بنی۔

امریکی جریدے نیوز ویک میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق رچرڈ ہالبروک کے پاکستان اور افغانستان کے رہنماؤں سے اچھے تعلقات نہ تھے اور مختلف مواقع پر پاکستان کے صدر زرداری اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بھی کئی بار ان سے ملنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہالبروک افغانستان کو دوسرا ویت نام سمجھتے تھے جہاں امریکہ کے لیے جنگ جیتنا صرف ایک معجزہ ہی ہو سکتا ہے۔ نیوز ویک کے مطابق ہالبروک پچاس سال تک امریکی خارجہ پالیسی سے منسلک رہے اور وزیر خارجہ بننا ان کی دلی خواہش تھی۔ اس کے لیے

مزید نتائج