رجسٹری: کے نتائج

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے آئل ٹرمینل کیس کی سماعت انتیس ستمبر تک ملتوی کردی

کیس کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس انورظہیر جمالی پرمشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ دوران سماعت عدالت نے معاملے کے حل میں مسلسل تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا ۔ڈی سی او کراچی محمد حسین نے عدالت کو بتایا کہ شیریں جناح کالونی پر واقع غیرقانونی ٹرمینل کی منتقلی کے لیے ذوالفقار آباد میں زمین مختص کردی دی گئی ہے اورسمری وزیراعلی سندھ کو بھجوائی جاچکی ہے جس پر عدالت نے ڈی سی او کراچی کو ہفتہ وار رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ رجسٹری میں ازخودنوٹس کیس کی سماعت میں عدالت کا آئی جی سندھ کوڈیلی پراگرس رپورٹ ہفتے میں دومرتبہ پیش کرنےکاحکم ۔

سپریم کورٹ رجسٹری میں کراچی بدامنی پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس انورظہیر جمالی اور جسٹس سرمد جلال عثمانی نےآئی جی سندھ کو حکم دیا کہ وہ پیر تک اپنی پراگرس رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے گزشتہ روزپیش کی جانےوالی رپورٹ کو غیرتسلی بخش قراردیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایسی رپورٹ پیش کی جائے جس میں کارروائی آگے بڑھی ہواور چالان بھی پیش ہوئے ہوں، عدالت کو ایسے مقدمات کی تفصیل سے آگاہ کیا جائے جن میں عوام کو فائدہ ہوا ہو۔ آئی جی سندھ واجد درانی نےجواب میں عدالت کو بتایا کہ روزانہ رپورٹ پیش کرنے

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری، ٹارگٹ کلنگ ازخود نوٹس، شہرخون میں نہا رہا تھا لیکن کچھ نہیں کیا گیا۔ ۔چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کررہاہے۔ سماعت کے دوران جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ایڈووکیٹ جنرل سے سوال کیا کہ ساڑھےتین سال تک آپ کیا کرتے رہے۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لارجر بینچ بہت سے لوگوں کو پسند نہیں،شہر خون میں نہا رہا تھا لیکن کچھ نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ تین سو چھ افراد کو مارنے والے کیوں نہیں پکڑے گئے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے استدعا کی کہ سماعت کے اختتام پر انہیں

مزید نتائج