احمد راہی کا تعلق امرتسر کے ایک کشمیری خاندان سے تھا جو آزادی کے بعد ہجرت کر کے لاہورآ گیا۔امرتسر میں ہی انہوں میں مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو ، شاعر سیف الدین سیف ، کہانی نگار اے حمید کی صحبت میں رہتے ہوئے ادب میں دلچسپی لینا شروع کردی، احمد راہی نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز پنجابی فلم بیلی سے کیا جو تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات کے پس منظر میں بنائی گئی تھی۔ انہوں نے مشہور پنجابی فلم ہیر رانجھا کے لیے بھی نغمات لکھے جن میں سن ونجھلی دی مٹھڑی تان اور ونجھلی والڑیا توں تے موہ لئی اے مٹیار آج