راسموسن: کے نتائج

پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نیٹو افواج کیلئے سیکیورٹی رسک ہیں، جس کا خاتمہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے جنرل راسموسن

برسلز میں یورپی پالیسی سنٹر تھنک ٹینک ڈیفنس فورم میں خطاب کرتے ہوئے نیٹو کے سیکرٹری جنرل اینڈرس فوگ راسموسین نے کہا ہے کہ افغانستان میں استحکام کو یقینی بنانےکیلئے پاکستان کے مثبت تعاون کی ضرورت ہے۔پاکستان کو واضح پیغام دیتے ہوئے نیٹو کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نیٹو افواج کیلئے مسلسل خطرہ ہیںجسکا خاتمہ نیٹو اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے۔راسموسن کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر حقانی ٹھکانوں پر تشویش ہے،جس سے پاکستان کو نمٹنا ہو گا۔انہوں نے

اسامہ کی ہلاکت کے باوجود اتحادی افواج مقررہ وقت تک افغانستان میں رہیں گی ۔ فوگ راسموسن

ایک انٹرویو کےدوران نیٹو کے سیکرٹری جنرل فوگ راسموسن نے کہا کہ دہشتگرد بدستور دنیا کے لئے خطرہ ہیں،راسموسن نے کہا کہ امریکہ اور اتحادی افواج طے شدہ شیڈول کے مطابق اس سال افغانستان میں مقامی فوسرزکو اور اختیارمنتقل کریں گے تاکہ دوہزارچودہ تک یہاں سے انخلا کا عمل مکمل کیا جاسکے ،افغانستان میں دو ہزار ایک کے بعد ڈیڑھ لاکھ کے قریب اتحادی افواج موجود ہیں جن میں ایک لاکھ صرف امریکی فوجی ہیں

نیٹوکے سیکرٹری جنرل اینڈراس فوگ راسموسن نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی،صدر آصف علی زرداری اورآرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں ہیں۔

نیٹو کے جنرل سیکرٹری نے پی ایم سیکرٹریٹ اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کی۔ جس میں وزیر اعظم نے اس بات پرزوردیا ہے کہ پاکستان اور نیٹو افغان سرحدوں پردہشتگردوں کی نقل وحرکت پرنظر رکھنے کیلئے معلومات کے تبادلے اورمشترکہ نگرانی کانظام تشکیل دیں۔ اس موقع پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل راسمین نے پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف کوششوں کوسراہا اورپاکستان اورنیٹو کے درمیان مشترکہ سیاسی اعلامیے کوحتمی شکل دینے کیلئے کام کوتیزی سے نمٹانے کی ضرورت پرزوردیا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نےصدر آصف زرداری سے بھی ایوان

مزید نتائج