دورانیے: کے نتائج

ملک میں بجلی کا شارٹ فال دوہزارچارسومیگاواٹ، شہری اور دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ دورانیے میں معمولی کمی ۔

پیپکو حکام کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداوارچودہ ہزارچوہترجبکہ طلب سولہ ہزارچارسوچوہترمیگاواٹ ہے۔ اس وقت ملک میں مجموعی طورپربجلی کا فارٹ فال چوبیس سومیگاواٹ ہے۔ پیپکوحکام کے مطابق کے ای ایس سی کوچھ سونوے میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے جبکہ ہائیڈرل سے پانچ ہزارچھ سوچھیاسی، تھرمل ایک ہزارسات سوچھیالیس، رینٹل پاورپلانٹس سے ایک سوستائیس اورآئی پی پیزسے چھ ہزارپانچ سوپندرہ میگاواٹ بجلی حاصل ہورہی ہے۔ دوسری جانب شارٹ فال میں کمی کے بعد شہری اوردیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں بھی

ملک بھرمیں بجلی کا بحران بدستورجاری، شارٹ فال دوہزار آٹھ سو پچاس میگاواٹ، لوڈشیڈنگ دورانیے میں اضافہ، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ۔

پیپکو ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوارتیرہ ہزارپانچ سو بیس جبکہ طلب سولہ ہزار تین سے ستر میگاواٹ ہے ۔ تھرمل ذرائع سے ایک ہزار چھ سو اکیانوے ،ہائیڈرل سے پانچ ہزار پینسٹھ ،آئی پی پیز سے چھ ہزار چھ سو چودہ جبکہ رینٹل پاورپلانٹ سے ایک سو پچاس میگاواٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے ۔ بجلی کی پیداواراورطلب میں فرق کے باعث لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھا دیا گیا جس کی وجہ سے شہروں میں آٹھ سے دس گھنٹے جبکہ دیہات میں چودہ سے سولہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ۔ طویل اورغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے

ملک میں بجلی کا بحران جاری، شارٹ فال کم ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کوئی خاص کمی نہیں ہوئی۔

پیپکوذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوارچودہ ہزار دو سو اٹھارہ جبکہ طلب سترہ ہزار چار سو اٹھانوے میگاواٹ ہے۔ ہائیڈرل ذرائع سے پانچ ہزار تین سو چودہ، تھرمل سے ایک ہزار اکسٹھ اور آئی پی پیز سے چھ ہزار آٹھ سو چار جبکہ رینٹل پاور پلانٹس سے ایک سو انتالیس میگاواٹ پیداوار حاصل کی جارہی ہے۔ بارش کے بعد گرمی کا زور ٹوٹنے کے باعث شارٹ فال پانچ ہزار دو سو گیارہ سے کم ہو کر تین ہزار دو سو اسی میگاواٹ رہ گیا ہے لیکن اس نمایاں کمی کے باوجود لوڈ شیڈنگ کی صورتحال بہتر نہیں ہوسکی اور اب بھی شہروں میں

مزید نتائج