حکام: کے نتائج

افغان صدارتی محل کے حکام نے الزام لگایا ہے کہ سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کا قاتل پاکستانی تھا اور انکے قتل میں آئی ایس آئی ملوث ہے

افغان صدارتی محل سے جاری ایک بیان کے مطابق برہان الدین ربانی کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم حمید اللہ نامی پاکستانی کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور اسکے قبضے سے ملنے والی دستاویزات ، تصاویر،آڈیو اور ویڈیو ثبوت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ برہان الدین ربانی کے قتل کا منصوبہ پاکستان میں بنایا گیا تھا اورآئی ایس آئی نے برہان الدین ربانی کے قتل میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔بیان میں کہا گیا کہ تمام تر ثبوت اوردستاویزات کابل میں موجود پاکستانی سفارت خانے کو دے دیے گئے ہیں اوردستاویزات سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے

افغان حکام نےسابق صدربرہاالدین ربانی کےقاتلوں کو پاکستانی قراردے دیا۔

افغان حکام نےدعوی کیا ہےکہ ثبوت واضح کرتے ہیں کہ افغانستان میں امن کیلئے کام کرنےوالےسابق افغان صدربرہاالدین ربانی کےقاتل پاکستانی ہیں۔افغان حکومت کیجانب سےیہ الزام بھی عائد کیا گیا ہےکہ صدرربانی پرخودکش حملےکا منصوبہ کوئٹہ میں بنایاگیا۔افغان حکام کا کہنا ہےکہ سابق صدرکےقتل میں ملوث افراد کےنام اورپتےافغانستان میں پاکستان کےسفارتخانےکے حوالےکردیئے گئےہیں۔افغان حکام کا یہ بھی کہنا ہےکہ صدرکومارنےکی منصوبہ بندی کرنیوالاشخص ہمارے قبضے میں ہے۔واضح رہےکہ سابق افغان صدر برہاالدین ربانی

سابق صدربرہان الدین ربانی کے قتل کا منصوبہ کوئٹہ میں بنایا گیا تھا جس کے شواہد پاکستان کے حوالے کردیئے گئے ہیں افغان حکام

افغان انٹیلی جنس سروسز کے ترجمان لطف اللہ مشعال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ برہان الدین ربانی پرحملے کا منصوبہ چارماہ قبل کوئٹہ شوری میںبنایا گیا تھاجس کے ثبوت کابل میں پاکستانی سفارتخانے کے حوالے کردیئے گئے ہیں جن میں نقشے اور تصاویر بھی شامل ہیں۔واضح رہےکہ افغانستان کے سابق صدراورامن کونسل کے چیئرمین برہان الدین ربانی گزشتہ ماہ کابل میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔اس سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں افغان صدر حامد کرزئی بھی قتل کا منصوبہ پاکستان میں تیار

مزید نتائج