میر تقی میرسترہ سوتئیس میں آگرہ کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہو ئے ۔ ان کے والد محمد علی متقی ایک گوشہ نشین بزرگ تھے۔ انہوں نے محض نو برس کی عمر میں یتیمی کا صدمہ جھیلا۔ میر نےساری زندگی تکلیفوں میں گزاری اس لیے ان کی شاعری میں غم اور الم کا عنصر نمایاں ہےجیسا کہ وہ خود کہتے ہیں:مجھ کو شاعرنہ کہو میرکہ صاحب ہم نےدرد و غم کتنے کئے جمع تو دیوان کیامیر کے بعد آنے والے تمام شعراء نے ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ غالب جیسے اعلیٰ پایہ کے شاعر بھی کہتےہیں:غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخآب بے بہرہ ہے جو معتقد