سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچنےٹارگٹ کلنگ سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لارجر بینچ بہت سے لوگوں کو پسند نہیں،شہر خون میں نہا رہا تھا لیکن کچھ نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ تین سو چھ افراد کو مارنے والے کیوں نہیں پکڑے گئے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے استدعا کی کہ سماعت کے اختتام پر انہیں صفائی کے لیے پندرہ منٹ کا وقت دیں۔ چیف جسٹس نےریمارکس دیئےکہ عدالت ان سے بہت کچھ سننا چاہتی ہے اس لیے وقت دیا