چھ سالہ ایمان علی دوسری جماعت کا طالبعلم تھا اورمیکلوروڈ کارہائشی،چھ اگست کونامعلوم افراد نے اسے اغوا کرکے20لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا اور تاوان نہ ملنے پر درندہ صفت اغواکاروں نے بچے کا گلہ دباکر قتل کردیا ۔بچہ کے قتل کی خبر ملتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا جبکہ ماں غم سے بے ہوش گئی۔ کیس کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب پولیس کی تفتیش کے دوران یہ بات ثابت ہوئی کہ مقتول ایمان علی کو اغوا کے بعد قتل کرنے والے کوئی غیر نہیں بلکہ سگے چچازاد بھائی تھے۔ پولیس نے قتل کے الزام میں رفاقت علی اور شبیر کو اعتراف جرم