گزشتہ برس اسلام آباد کے قریب ایئر بلیوکے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے جرمن ڈاکٹر میسکو کی بیوہ نے سندھ ہائی کورٹ میں دائر کئے گئے دعوے میںائیر بلیو، سول ایوی ایشن اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا ہے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ طیارے میں سوار مسافروں کے جان و مال کی حفاظت متعلقہ ایئر لائن کی ذمہ داری تھی جبکہ طیارہ عملے کی غفلت کے باعث تباہ ہوا جس میں اس کے شوہر سمیت درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔درخواست گزار نےعدالت سے دس لاکھ ڈالر بطور ہرجانہ دلوانے