تازہ ترین:

بس: کے نتائج

سانحہ کلر کہار کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری، بس کی رفتار تیز نہیں تھی،حادثہ بریک فیل ہونے کی وجہ سے پیش آیاموٹروے پولیس

موٹروے پولیس کی رپورٹ نے ڈی پی او چکوال اور موٹروہیکل ایگزامنرکی رپورٹس کو مسترد کردیا ہے جن میں بس کے انجن اور بریک میں خرابی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے حادثے کی وجہ اوورلوڈنگ کو قراردیا گیا تھا۔ انکوائری کمیٹی نے حادثے سے قبل جان بچانے کے لئے بس سے چھلانگ لگانے والے ٹیچر اور زخمی طلباء کے بیانات قلمبند کیے ہیں ۔ جن کا کہنا ہے کہ بریک فیل ہوتے ہی ڈرائیونےبلندآوازمیں سب کو کہا تھاکہ بس کے بریک فیل ہوچکے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق گاڑی کی سپیڈ بھی نارمل تھی۔ انکوائری کمیٹی مزید تحقیقات کے لئے

فیصل آباد کے نجی سکول کے بچوں کی بس بریک فیل ہونے کے باعث کھائی میں جاگری جس سے بچوں سمیت اڑتیس افراد جاں بحق جبکہ سڑسٹھ زخمی

فیصل آباد کےعلاقے ملت ٹاؤن میں واقع ملت گرامر سکول کے چھٹی جماعت سے دسویں تک کے بچے پرنسپل اور ٹیچرز کے ہمراہ پکنک منانے کلر کہار گئے تھے۔ سکول بس شام سات بجے کے قریب واپس فیصل آباد آ رہی تھی کہ بریک فیل ہونے کے باعث کھائی میں جاگری۔ حادثے میں اسکول پرنسپل محمد حفیظ انور اور چونتیس بچوں سمیت اڑتیس افراد جاں بحق ہوگئے۔ سڑسٹھ افراد زخمی ہوئے جنہیں کلر کہار اور چکوال کےہسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال چکوال میں چونتیس زخمی بچے اسپتال لائے گئے جہاں پانچ بچوں کو تشویشناک حالت میں

بلوچستان کےعلاقےمستونگ میں نامعلوم افراد نےزائرین کو بس سے اتار کران پر فائرنگ کردی جس سے اکتیس افرادجاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

کوئٹہ سے سرحدی شہر تفتان جانے والی زائرین کی بس کو نامعلوم دہشت گردوں نے مستونگ کے قریب روک لیا اور زائرین کو نیچے اتار کر لائن میں کھڑا کر کے فائرنگ کر دی جسکے نتیجے میں چھبیس افراد موقع پر جاں بحق ہو گئے جبکہ متعددافراد زخمی ہوئے ،بیشتر افراد نے بھاگ کر جان بچائی۔زخمیوں کو مستونگ سے کوئٹہ کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور کوئٹہ کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔بس کے ڈرائیور خوشحال خان نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک پک اپ انکی بس کے سامنے آ کر رک گئی جس میں

مزید نتائج