تازہ ترین:

بدستور: کے نتائج

ملک بھر میں بجلی کابحران بدستور جاری ہے اور شارٹ فال پانچ ہزار چھ سو اکیاسی میگاواٹ ہونے کے بعد لوڈ شیڈنگ دورانیہ بیس گھنٹے تک پہنچ گیا

پیپکو حکام کےمطابق ملک میں بجلی کی پیداواربارہ ہزارپانچ سو ستاسی جبکہ طلب اٹھارہ ہزار دو سو اڑسٹھ میگاواٹ ہے ۔ہائیڈرل پاورپلانٹس سے چھ ہزارچارسواٹھانوے، تھرمل سے ایک ہزار تین سوسینتیس، آئی پی پیز سے چار ہزارچھ سو چھالیس جبکہ رینٹل پاور پلانٹس سے ایک سو چھ میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے۔ کے ای ایس سی کو سات سو تیس میگا واٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ بجلی کی طلب اور پیداوار میں فرق کے باعث شہروں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ چودہ گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ عوام کو دن کو

سندھ کےسیلاب زدہ علاقے بدستور پانی کی لپیٹ میں، اشیائے خوردو نوش کی ترسیل اورامدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا

این ڈی ایم اے کے ترجمان ارشاد بھٹی نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اس وقت سندھ کے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ تئیس اضلاع میں سے زیادہ تر میں امدادی سامان کی ترسیل کا مسئلہ سنگین ہوتاجارہا ہے۔ ان علاقوں میں متاثرین ٹولیوں کی شکل میں بکھرے ہوئے ہیں جنہیں منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت امدادی سامان اور خیمے تودستیاب ہیں لیکن ان کو متاثرہ علاقوں میں پہنچانے کے لیے اہلکار موجود نہیں ہیں۔ان کے مطابق اسی لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہیں اور امدادی کیمپوں میں متاثرین کی تعداد میں مسلسل

سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکاسی آب نہ ہونے کے باعث متاثرین بدستور مشکلات کا شکار ہیں جبکہ وبائی امراض میں بھی اضافہ ۔

شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں کے عوام کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آسکی اورمتاثرین کی اکثریت بدستور امداد سے محروم ہے۔ اکثر علاقوں سے تاحال نکاسی آب نہ ہونے کے باعث تعفن اور وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔مختلف ریلیف کیمپوں میں پناہ لئے ٹنڈوجام اورگردونواح کےہزاروں مکین امداد کے منتظر ہیں جبکہ سیلاب کے باعث گھروں کی تباہی کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں کے کنارے پناہ لئے ہوئے ہے۔ اکثر علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہونے کے باعث امدادی ٹیمیوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے اور متاثرہ علاقوں

مزید نتائج