تازہ ترین:

ایڈمرل: کے نتائج

آئی ایس آئی کا ایک دھڑا دہشتگرد گروپوں کی معاونت کر رہا ہے، خطے میں امن کیلئے پاکستان کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہو گی۔ ایڈمرل مائیک مولن

ایڈمرل مائیک مولن کی جانب سے الزامات کا سلسلہ بدستورجاری ہے،واشنگٹن میں نیشنل ریڈیو سٹیشن کوانٹرویو دیتے ہوئے مائیک مولن نے کہا کہ آئی ایس آئی نہ صرف حقانی نیٹ ورک بلکہ لشکر طیبہ کو بھی مالی امداد کے علاوہ اپنے ملک میں محفوظ ٹھکانے فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان خطے میں بھارت کیخلاف کافی عرصے سے مذہبی گروپوں کوایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے اور بھارت کے بعد پاکستان نے افغانستان میں بھی ان گروہوں کو استعمال کیا ، انکا کہنا تھا کہ خطے کی تینوں ممالک بھارت پاکستان اور افغانستان کو قیام امن

امریکی چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن آج اپنےعہدےسےریٹائرہوجائیں گے۔

مائیک مولن کا چالیس سالہ فوجی کیرئیر آج اختتام پذیرہوررہا ہے، بحیثیت چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف وہ ریاست ورجینیا میں ایک تقریب کے دوران ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ ایڈمرل مائیک مولن کے بعد جنرل مارٹن ڈمپسی امریکی فوج کی کمان سنبھالیں گے جن کی نامزدگی رواں سال مئی میں صدر باراک اوباما نے کی تھی۔ جنرل مارٹن ڈمپسی چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے کلاس فیلوبھی رہ چکے ہیں۔

پاک فوج اور آئی ایس آئی کوحقانی گروپ پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہے تاہم اسے تباہ کرنا پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔ امریکی ایڈمرل مائیک مولن

امریکی جوائنٹ چیفس آف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن نے امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ سینیٹ میں دیئے گئے بیان کے ہر لفظ پر قائم ہیں۔ انہوں نے وہی کہا جو وہ کہنا چاہتے تھے۔ مائیک مولن کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے حقانی نیٹ ورک سے تعلقات کو منظر عام پر لانے کا سوچ رہے تھے تاہم حقانی نیٹ ورک کے ہاتھوں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر وہ خاموش نہ رہ سکے۔ مائیک مولن نے کہا کہ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کا حقانی نیٹور ک

مزید نتائج