تازہ ترین:

اپنی: کے نتائج

آئی ایس آئی کا ایک دھڑا دہشتگرد گروپوں کی معاونت کر رہا ہے، خطے میں امن کیلئے پاکستان کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہو گی۔ ایڈمرل مائیک مولن

ایڈمرل مائیک مولن کی جانب سے الزامات کا سلسلہ بدستورجاری ہے،واشنگٹن میں نیشنل ریڈیو سٹیشن کوانٹرویو دیتے ہوئے مائیک مولن نے کہا کہ آئی ایس آئی نہ صرف حقانی نیٹ ورک بلکہ لشکر طیبہ کو بھی مالی امداد کے علاوہ اپنے ملک میں محفوظ ٹھکانے فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان خطے میں بھارت کیخلاف کافی عرصے سے مذہبی گروپوں کوایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے اور بھارت کے بعد پاکستان نے افغانستان میں بھی ان گروہوں کو استعمال کیا ، انکا کہنا تھا کہ خطے کی تینوں ممالک بھارت پاکستان اور افغانستان کو قیام امن

کسی پاکستانی علاقے میں آپریشن امریکی ڈکٹیشن پر نہیں اپنی ترجیحات پر کرینگے، افغانستان میں حقانی نیٹ کا سرگرم ہونا امریکی فوج اور نیٹو کی صلاحیت پر سوالیہ نشان ہے ڈی جی آئی ایس آئی

وزیراعظم کی طرف سے اسلام آباد میں بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی شجاع پاشا نے حقانی نیٹ ورک کے بارے میں امریکی الزامات سختی سے مستردکردئیے، ان کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کا کوئی سرکردہ رہنما پاکستان میں موجودنہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے سات صوبے حقانی نیٹ ورک کے زیر اثر ہیں۔تین صوبوں پکتیا، پکتیکا اور خوست پر مکمل کنٹرول ہے جبکہ چار صوبوں پر اس کی متوازی حکومت قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کسی بھی سطح پردہشتگردی ایکسپورٹ نہیں کرہی

پاکستان کیخلاف الزامات کا امریکی کیس بہت کمزور ہے،کسی پاکستانی علاقے میں آپریشن امریکی ڈکٹیشن پر نہیں اپنی ترجیحات پر کرینگے جنرل شجاع پاشا

وزیراعظم کی طرف سے اسلام آباد میں بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی شجاع پاشا نے حقانی نیٹ ورک کے بارے میں امریکی الزامات سختی سے مستردکردئیے، ان کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کا کوئی سرکردہ رہنما پاکستان میں موجودنہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے سات صوبے حقانی نیٹ ورک کے زیر اثر ہیں۔تین صوبوں پکتیا، پکتیکا اور خوست پر مکمل کنٹرول ہے جبکہ چار صوبوں پر اس کی متوازی حکومت قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کسی بھی سطح پردہشتگردی ایکسپورٹ نہیں کرہی

مزید نتائج