تازہ ترین:

آگئی: کے نتائج

کراچی اسٹاک مارکیٹ کاروباری ہفتےکےآغاز پر ہی مندی کی لپیٹ میں آگئی۔ لاہورسٹاک مارکیٹ بھی مندی کارجحان رہا

کراچی اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز محدود تیزی سے ہوا اور انڈیکس ٹریڈنگ کے دوران گیارہ ہزار تین سو پوائنٹس کی سطح تک بھی پہنچنے میں کامیاب رہا تاہم مارکیٹ کے آغاز کی تیزی جلد ہی مندی میں تبدیل ہوگئی۔نشاط ملز ،نیشنل بینک ،فوجی فرٹیلائزر سمیت انرجی اور سیمنٹ اسٹاکس میں زبردست فروخت، انڈیکس کوگیارہ ہزار دو سو پوائنٹس کی سطح سے بھی نیچے لے گیا۔کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس چھیانوے پوائنٹس کی کمی کے بعد گیارہ ہزار ایک سو چھاسٹھ پوائنٹس پر بند ہوا۔مجموعی طور پر دو کروڑ انسٹھ لاکھ شئیرز کے سودے ہوئے

منی مارکیٹ میں سرمائے کی قلت میں مزید شدت آگئی۔ اسٹیٹ بینک کورقم کی کمی دور کرنے کے لیے بینکوں کو ایک سو پندرہ ارب روپے فراہم کرنے پڑے۔

اسٹیٹ بینک نے اوپن مارکیٹ آپریشن کے ذریعے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو چار روز کے لیےایک سو پندرہ ارب روپے فراہم کردیئے ہیں۔مرکزی بینک نے یہ رقم تیرہ اعشاریہ پانچ نو فیصد شرح سود پر فراہم کی ہے۔بینکوں نے اسٹیٹ بینک کو ایک سو چالیس ارب پچھہتر کروڑ روپے کے ٹی بلز فروخت کے لیے پیش کیے تھے۔ اسٹیٹ بینک یہ آپریشن بینکاری نظام میں سرمائے کو متوازن رکھنے کے لیے کرتا ہے۔

ملک بھرمیں کپاس کی فی من قیمت چھ ہزار روپےسے بھی کم ہوگئی، موجودہ قیمت اٹھارہ ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی ۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے ایگزیکیٹو ممبر احسان الحق کے مطابق ملک بھرمیں کپاس کی قیمتیں مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ ملک بھر میں روئی کی فی من قیمت مزید چار سو روپے کم ہو کر پانچ ہزار آٹھ سو روپے ہوگئی ہے۔ ممبر پی سی جی اے کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران روئی کی فی من قیمت میں تین ہزار روپے سے زائد کی نمایاں کمی ہوچکی ہے۔انکا کہنا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران کپاس کی قیمتوں میں اتنی تیزی سے کمی دنیا کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا بھر میں کپاس کی بہترین فصل ہونے کے

مزید نتائج