سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس غلام ربانی اور جسٹس خلیل الرحمان رمدے پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سابق ایم پی اے احسن اللہ وقاص کے وکیل کاظم رضا نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اور غیر ملکی کمپنی کے درمیان سونے اورتانبے کی تلاش کا جو معاہدہ ہوا تھا اسے جان بوجھ کر خفیہ رکھا گیا اور دونوں فریقین کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ تمام زبانی اور تحریری باتیں پوشیدہ رکھی جائیں گی۔عدالت کو بتایا گیا کہ معاہدے کی مدت تیس سال کے لیے تھی۔ احسن اللہ وقاص کے وکیل نے عدالت