تازہ ترین:

اوبامہ: کے نتائج

امریکی صدر باراک اوبامہ آج افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کے منصوبے کا اعلان کریں گے ۔

وائٹ ہاؤس کےمطابق امریکی صدر باراک اوبامہ آج مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے خطاب کریں گے۔ ذرائع کے مطابق صدر اوبامہ کی تقریرافغانستان میں امریکہ کی آئندہ حکمت عملی پر ہوگی۔ اس وقت افغانستان میں امریکہ کی تقریباً ایک لاکھ کے قریب فوج موجود ہے، جس میں سے تیس ہزارفوج افغانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر طالبان سے جنگ کررہی ہیں۔ امریکی اخبار کےمطابق امریکی صدر آئندہ ماہ پانچ ہزار فوجیوں کو واپس بلالیں گے جبکہ پانچ ہزاراس سال کے آخر تک واپس آجائیں گے۔ جبکہ باقی لڑاکا افواج دوہزار بارہ کے آخر

اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن میں اوبامہ انتظامیہ نےپاکستان کی ممکنہ مزاحمت پر امریکی فوجیوں کو لڑنے کا حکم دیا تھا۔ نیویارک ٹائمز

اخبار نے اعلیٰ فوجی اور سول حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن کے دوران پاک فوج کی جانب سے مزاحمت کا خدشہ تھا. آپریشن کے لئے تشکیل دی گئی بڑی ٹیم سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی مزاحمت کی صورت میں صدر اوباما لڑائی کے لئے تیار تھے۔ انہوں نے آپریشن سے دس دن پہلے منصوبے کا جائزہ لیا۔آپریشن کے دوران امریکی جنگی جہاز پاکستانی فورسز اور پولیس کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔اس مقصد کیلئے افغان سرحد پر دو ہیلی کاپٹرز صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار کھڑے تھے جبکہ آپریشن کے لئے دو ٹیمیں تیار کی گئی

ایک امریکی اخبار کے مطابق پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی صدربراک اوبامہ کی درخواست کے باوجود شمالی وزیرستان میں آپریشن پرآمادہ نہیں ہوئے۔

واشنگٹن پوسٹ نے اسلام آباد میں مقیم اپنے دونامہ نگاروں کا ایک خصوصی مراسلہ شائع کیا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی پاکستان کے طاقتور ترین آدمی ہیں۔ وہ پاکستان کے دفاعی امورکے معاملے میں صدراور وزیراعظم کی نسبت زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ شمالی وزیرستان میں اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل دباؤ کے باوجود تاحال آپریشن شروع نہیں کیا جا سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنرل کیانی شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کرنےکےلیے آمادہ نہیں ہوئے۔ مراسلے میں امریکہ کی خفیہ

مزید نتائج