چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس خلجی عارف حسین نے این آئی سی ایل کیس کی سماعت کی۔ قائم مقام ڈی جی ایف آئی اے چوہدری منظور نے ظفر قریشی کی ایف آئی اے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے تبادلے منسوخ کرنے کے حوالے سے وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالتوں کا مذاق بنا لیا ہے تم کیا سمجھتے ہو کہ تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، یہ کیس کیا آ گیا ہے مصبیت آ گئی ہے۔ جس طرح کی اشتہاری مہم سپریم کورٹ کے خلاف چلائی جا رہی ہے اس طرح تو