تازہ ترین:

افزودگی: کے نتائج

یورینیم افزودگی کی اگر موجودہ شرح برقرار رہی تو ایران دو ماہ میں ایٹم بم سمیت کوئی بھی جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ادارے اٹامک واچ ڈاگ نے عالمی جوہری توانائی ادارے کی رپورٹ کے تناظر میں ایران کے ایٹمی پروگرام پرتحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یورنیم افزودگی کی موجودہ شرح برقرار رہی تو ایران آٹھ ہفتوں کے بعد جوہری ہتھار بنانے کے قابل ہوجائے گا۔ رپورٹ کے مطابق تہران میں واقع پلانٹ اڑتیس اعشاریہ تین کلو گرام یورینیم افزودہ کرچکا ہے اسی شرح سے وہ دو ماہ میں مزید بیس کلو یورینیم افزودہ کرلے گا جو کسی بھی جوہری ہتھیار کی تیاری کے لیے درکار یورینیم کا نوے فیصد ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ

ایران نے ایٹمی طاقت میں اضافے کا فیصلہ کرلیا، یورینیم کی افزودگی کے لیے دس نئے پلانٹ لگائے جائیں گے۔

تہران میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ایران کے نائب صدر اور ایٹمی توانائی کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا کہ ان کا ملک آئندہ برس مارچ تک یورینیم کی افزودگی کے لیے ایک نئے پلانٹ پر کام کا آغاز کردے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورینیم کی افزودگی کے لیے دس نئے  پلانٹس کے لیے جگہ کا انتخاب کرلیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ اس وقت ایران میں یورینیم افزودہ کرنے کا ایک پلانٹ  نیتنز میں واقع ہے جبکہ ایسی ایک اور تنصیب کی تعمیر قُم میں جاری ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ آئندہ پندرہ برسوں میں اس کو توانائی کی ضروریات پوری

ایران نے یورینیم افزودگی کیلئے مزید 2 پلانٹ لگانے کا اعلان کردیا

تہران (اے ایف پی) ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک آئندہ سال کے دوران یورینیم کی افزودگی کے مزید دو پلانٹ لگائے گا۔ علی اکبر صلاحی نے بتایا کہ صدر کی ہدایت کے مطابق ہم انشاءاللہ آئندہ سال ان پلانٹوں کی تعمیر شروع کردیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی ممکنہ

مزید نتائج