تازہ ترین:

افتخارمحمد: کے نتائج

اختیارات سے تجاوز کرنے والوں کو روکنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری

سپریم کورٹ میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ آئین وقانون کی حکمرانی کیلئے آزاد اور غیرجانبدار عدلیہ کا وجود لازمی ہے اور کسی بھی اتھارٹی یا ادارے کو بے لگام اختیارات کے استعمال سے باز رکھنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ پر اپنے اپنے دائرہ اختیار سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کرتا ہے، یہی جمہوریت کے لئے اختیارات کا چیک اینڈ بیلنس ہے۔ اس موقع پر صدر سپریم کورٹ بار عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ جسٹس جاوید

بھٹوصدارتی ریفرنس کی سماعت کیلئےچیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں گیارہ رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے ۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں گیارہ رکنی لارجر بینچ دو مئی سے روزانہ کی بنیاد پر صدارتی ریفرنس کی سماعت کرے گا۔بینچ میں جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس غلام ربانی بھی شامل ہیں۔عدالت کی جانب سے مقررکیے گئے گیارہ عدالتی معاونین ، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل صدارتی ریفرنس پر قانونی لحاظ سے عدالت کی معاونت کریں گے۔ عدالت کے حکم پر ذوالفقار علی بھٹو کی سزا سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا ریکارڈ بھی سپریم کورٹ کو فراہم کر دیا گیا ہے ۔ ریکارڈ میں تین سو ستاسی آڈیو

چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری نےکہا ہے کہ ایک آدھ شخص کرپٹ ہوسکتا ہے، پوری عدالیہ پر کرپشن کا الزام عائد کرنا درست نہیں۔

اسلام آباد میں تین روزہ نیشنل جوڈیشل کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ دو سے تین فیصد جوڈیشل آفیسر کرپشن میں ملوث ہوسکتے ہیں لیکن سب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جوڈیشل افسر اعلیٰ تعلیم کےلیے چھٹی مانگتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تفتیش کا طریقہ کار انتہائی ناقص ہے۔ ملک بھر میں تفتیش کا معیاردن بہ دن گرتاجارہا ہے۔ تفتیشی خامیوں کا الزام عدالیہ پر لگتاہے، جب تفتیش اور شواہد کمزور ہوں تو عدلیہ کیا کرے۔ اگلی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے

مزید نتائج