کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والےملک اسحاق پر سری لنکن ٹیم پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔ ملک اسحاق کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سری لنکن ٹیم پر حملے کے وقت ملزم جیل میں قید تھا جبکہ پراسکیوٹر جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کا نام ایف آئی آر میں شامل ہے اس لئے ضمانت کی درخواست منظور نہ کی جائے تاہم سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے جسٹس شاہد صدیقی نے پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے اس مقدمے میں ملزم کی رہائی کے احکامات جاری کردیئے۔