سپریم کورٹ میں نئےعدالتی سال کےآغاز کےحوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا تھا کہ جوڈیشل پالیسی کی وجہ سے اہم احداف حاصل ہوئے ہیں اور کمیشن کے تیس اجلاسوں میں سو ججوں کی تقرری کی سفارش کی گئی ہے جبکہ جوڈیشل پالیسی سے پہلے ملک میں اٹھارہ لاکھ سے زائد کیسسز زیر التوء تھے جو اب چودہ لاکھ رہ گئے ہیں۔ ریٹائرڈ ججوں کی سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان ججز کو اپنے منصب سے کم عہدوں پرملازمتیں نہیں کرنی چاہیئں۔ جوڈیشل پالیسی بھی اس سے روکتی ہے جبکہ