عرب نژاد امریکی فوجی نے ساتھیوں کے متعصبانہ رویہ کیخلاف مقدمہ درج کرا دیا

نیویارک (طیبہ ضیاءسے) عرب نژاد امریکی فوجی کلوان نے امریکی عدالت میں امریکی فوج کے متعصبانہ رویہ کیخلاف مقدمہ درج کروایا ہے جس میں مﺅقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں نے اس کے ساتھ متعصبانہ رویہ رکھا ہوا ہے اور اسے خوفزدہ کیا جا رہا ہے اس کے دروازے پر دہشت گرد کے نوٹ لکھے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ نماز اور قرآن کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہے جاتے ہیں اس لئے اسے تحفظ فراہم کیا جائے جبکہ اسکے امریکی کرنل جمی جینکسن نے کہا کہ کلوان کا یونٹ بدلا جا سکتا ہے یا کمرہ تبدیل کر دتے ہیں تاہم کلوان نے کہا ہے کہ وہ اس یونٹ میں رہیں گے اور اس سے کم تر یونٹ میں نہیں جائینگے، کلوان کے وکیل نے کہا ہے کہ کلوان اس وقت تک مقدمہ واپس نہیں لینگے جب تک انہیں تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا اور اس کے ساتھ متعصبانہ رویہ کا نوٹس نہیں لیا جاتا۔ یاد رہے کہ اس وقت امریکی فوج میں 4200مسلمان فوجی ہیں جو اس وقت امریکی فوجیوں کے زبردست متعصبانہ رویہ کا شکار ہیں۔ امریکی فوجیوں کے اس متعصبانہ رویہ کی وجہ سے 6ماہ قبل فورٹ فیڈ میں ایک مسلمان امریکی میجر نڈال حسین نے فائرنگ کرکے 13فوجیوں کو مار ڈالا تھا۔ میجر نڈال سے بھی اس طرح کا طرزعمل روا رکھا جا رہا تھا۔ کلوان کا کہنا ہے کہ فیصل شہزاد کے واقعہ کے بعد مسلمان فوجیوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ میں شدت آ گئی ہے۔ کلوان کے انٹرویو کے بعد ایک امریکی میجر نے غم و غصہ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کلوان کم تر یونٹ میں ضرور بھیجا جائیگا۔ کلوان کا کہنا ہے کہ وہ یہ سزا برداشت نہیں کرینگے۔