مینگورہ میں فوج درجنوں سکول تباہ‘ سینکڑوں بند ہونے پر آئی: گل مکئی

مینگورہ (بی بی سی ڈاٹ کام) سوات میں ساتویں کی طالبہ ’’گل مکئی‘‘ نے بی بی سی ڈاٹ کام میں شائع ہونے والی اپنی کہانی کی چوتھی قسط میں کہا ہے کہ ہمارے سالانہ امتحانات سردیوں کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد ہوتے ہیں لیکن اس بار تب ہی ہوں گے جب طالبان اجازت دیں گے۔ اس لئے پڑھنے کو دل نہیں چاہتا۔ 23 جنوری 2009ء سے فوج نے مینگورہ میں بھی تعلیمی اداروں کی حفاظت کے لئے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ فوج کو اس کا خیال درجنوں سکول تباہ اور سینکڑوں بند ہونے کے بعد آیا ہے‘ طالبان رہنما مسلم خان نے دھمکی دی ہے کہ وہ ان تعلیمی اداروں پر حملہ کریں گے جہاں فوج ہو گی۔ اب تو سکول میں فوجی دیکھ کر ہمارا خوف مزید بڑھے گا۔ ہمارے سکول میں ایک ’’آنر بورڈ‘‘ لگا ہے جس پر سالانہ امتحان میں سب سے زیادہ نمبر لینے والی طالبہ کا نام لکھا جاتا ہے‘ لگتا ہے اس بار آنر بورڈ پر کسی کا نام لکھنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ 26 جنوری کی صبح توپ کے گولوں کی آواز سے آنکھ کھلی‘ گولہ باری سے بڑا ڈر لگتا ہے‘ پہلے ہیلی کاپٹروں سے بھی لگتا تھا مگر جب انہوں نے ٹافیاں پھینکنا شروع کیں تو ڈر ختم ہو گیا‘ تاہم اب ہیلی کاپٹر ٹافیاں نہیں پھینکتے۔ 27 جنوری کو ہم اسلام آباد آ گئے‘ راستے میں طالبان کا سوچ کر بڑا ڈر لگا‘ اسلام آباد خوبصورت ہے مگر سوات کی قدرتی خوبصورتی والی بات نہیں۔