تقرر دوبارہ ہوا‘ کسی جج کو بحال کیا نہ کریں گے:وریرقانون

تقرر دوبارہ ہوا‘ کسی جج کو بحال کیا نہ کریں گے:وریرقانون

اسلام آباد (وقائع نگار + مانیٹرنگ نیوز + ایجنسیاں) وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ گذشتہ برس اعلیٰ عدلیہ میں کوئی جج بحال ہوا نہ آئندہ کوئی جج بحال کیا جائیگا۔ سینٹ کے اجلاس میں اسماعیل بلیدی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ پچھلے برس کتنے جج بحال ہوئے اور کتنے جج بحال ہونے باقی ہیں؟ جس پر وزیر قانون نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ گذشتہ برس کوئی جج بحال ہوا نہ اب کسی کو بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہٹائے گئے ججوں کا دوبارہ تقرر کیا گیا ہے۔ بعدازاں پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق نائیک نے کہا کہ جو ہٹائے گئے ججز سیاست میں ملوث ہیں‘ انہیں بحال نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان ججز کا دوبارہ تقرر کیا گیا ہے۔ نائیک نے کہا کہ 9 مارچ کا لانگ مارچ وکلاء کا نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی تحریک بن گیا ہے جو ججز سیاست کر رہے ہیں انہیں واپس نہیں لیا گیا ہے‘ 3 نومبر کو ہٹائے گئے 95 فیصد ججز دوبارہ عدالتوں میں آ چکے ہیں‘ آئینی اور قانونی مسائل جلاؤ گھیراؤ سے حل نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تمام ججز کو عدالتوں میں آنے کی پیشکش کی تھی۔ حکومت نے کسی جج پر جبر نہیں کیا‘ سیاست کے شوقین جج خود بحال نہیں ہونا چاہتے‘ حکومت نے ججوں پر بحال ہونے یا نہ ہونے کے لئے دبائو نہیں ڈالا اور جو جج بحال ہوئے ہیں‘ انہوں نے اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق آئین کے تحت حلف اٹھایا ہے تمام بحال ہونے والے جج آئین کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور عدلیہ بحال ہو چکی ہے‘ انہوں نے کہا کہ باقی ماندہ معزول جج بھی بحال ہونا چاہتے ہیں تو آئین کے تحت حلف اٹھا لیں حکومت انہیں خوش آمدید کہے گی‘ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معزول ججوں کو بحال کر کے نئی روایت قائم کی ہے‘ اداروں کی بجائے شخصیات کو محور نہیں بنایا جا سکتا۔ فاروق نائیک نے کہا کہ آئین کے مطابق ججوں کو صرف تعینات کیا جا سکتا ہے انہیں دوبارہ بحال کرنے سے متعلق آئین خاموش اور ہٹائے گئے ججوں کی بحالی کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ وکلاء عدالتوں میں حاضر ہو کر مقدمات کی پیروی کریں انصاف سڑکوں پر نہیں بلکہ عدالتوں میں ملے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بین الوزارتی کمیٹی نے نیب کے خاتمے سمیت قانونی ترامیم کے لئے متعدد بل تیار کر لئے ہیں جو اس وقت متعلقہ کمیٹیوں کے زیر غور ہیں جلد ہی ان بلوں کو پارلیمنٹ سے منظور کروا لیا جائے گا۔ پوائنٹ آف آرڈر پر مشیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ میریٹ بم دھماکہ سکیورٹی لیپس تھا گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ صدر اور وزیراعظم ہائوس کو ٹارگٹ بنانا چاہتے تھے‘ گرفتار دہشت گردوں سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ گاڑیوں کی ڈگی میں بارود رکھ کر پارلیمنٹ اور ایوان صدر کے ساتھ ٹکرایا جائے گا‘ قائد ایوان میاں رضا ربانی نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ریاستی دہشتگردی کا ارتکاب کیا ہے جبکہ چند مسلمان ممالک شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش کر رہے ہیں جو امت مسلمہ کے لئے افسوس ناک ہے‘ پروفیسر خورشید کے پوائنٹ آف آرڈر کا جواب دیتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ غزہ سے ڈاکٹروں کی واپسی ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ پاکستان سے غزہ ڈاکٹروں کا جو وفد گیا ہے ہم ان کے جذبہ کی قدر کرتے ہیں پاکستان کی ایمبیسی نے ڈاکٹروں کو مکمل سہولیات فراہم کیں۔ وقفہ سوالات کے دوران وزیر تعلیم میر ہزار خان بجارانی نے کہا کہ آئندہ دو سال کے دوران شرح خواندگی میں 3 فیصد اضافہ کا امکان ہے‘ 2010ء تک 10 سال سے زائد عمر کے افراد میں خواندگی کی شرح 58 فیصد تک پہنچ جائے گی‘ 2006-07ء میں ملک میں غیر فعال سکولوں کی تعداد 9 ہزار سے زائد تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت مذہبی امور زکوٰۃ و عشر کے پاس رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 15148 ہے۔ وزیر محنت‘ افرادی قوت و سمندر پار پاکستانیز سید خورشید شاہ نے کہا کہ پچھلے مالی سال کے دوران 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد ہنرمند اور 3 لاکھ 18 ہزار سے زائد غیر ہنرمند افراد کو روزگار کے لئے بیرون ملک بھیجا گیا‘ ملک میں زیادہ غربت والے علاقوں میں فنی تربیت کے مراکز قائم کئے جائیں گے۔ وزیر سماجی بہبود و خصوصی تعلیم ثمینہ خالد گھرکی نے کہا کہ سماجی بہبود کی وزارت کے جاری ترقیاتی پروگراموں پر کام کی رفتار فنڈز جاری ہونے میں تاخیر ہونے کی وجہ سے سست روی کا شکار ہے۔ وزارت اپنے کسی پروگرام کی بندش پر غور نہیں کر رہی۔