پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کیلئے زندگی لگا دی ‘ ضمیر مطمئن ہے: ڈاکٹر قدیر

پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کیلئے زندگی لگا دی ‘ ضمیر مطمئن ہے: ڈاکٹر قدیر

اسلام آباد (جاوید صدیق) پاکستان کے مایہ ناز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر اے کیو خان نے کہا ہے کہ 28 مئی کو یوم تکبیر پر جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی‘ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں ڈاکٹر اے کیو خان کا کیا کردار ہے‘ جب میں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو تکمیل تک پہنچایا تھا تو اس وقت تک پاکستان بھارت کے تمام شہروں کو پانچ مرتبہ صفحہ ہستی سے مٹانے کے قابل ہو چکا تھا۔ جمعہ کی رات نوائے وقت سے خصوصی گفتگو کرتے ڈاکٹر خان نے کہا وہ پاکستان جس میں پلاسٹک کے کھلونے بھی چین سے درآمد ہوتے ہیں اس کو ایٹمی قوت بنانے کیلئے میں نے پوری زندگی لگا دی‘ میرے خاندان نے بھی مصائب جھیلے۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے کہا میں نے اورمیرے ساتھیوں نے پاکستان کے دفاع کوناقابل تسخیر بنایا‘ یہی وجہ تھی جب کارگل کی جنگ ہوئی تو بھارت تمام تر دھمکیوں کے باوجود پاکستان کے کسی شہر پر جارحیت نہیں کر سکا۔ 1965ء میں وہ لاہور اور سیالکوٹ پر چڑھ دوڑا تھا‘ پاکستان کے پاس اب ایٹمی ڈیٹرنس ہے۔ خدا کے کرم سے میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے ضمیر مطمئن ہے‘ جب میں ریٹائر ہوا تو مجھے صرف 4 ہزار 468 روپے پنشن دی گئی جو بڑھ کر اب 72 ہزار روپے ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر اے کیو خان سے استفسار کیا گیا پاکستان ایٹمی قوت بن چکا ہے اسے اقتصادی قوت بنانے کے لئے کیا کچھ کرنا چاہئے تو ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم اور صنعت پر توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ میرا اپنا ارادہ تھا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے بعد میں تعلیم اور سول سروس کی طرف توجہ دیتا‘ پاکستان میں تعلیم کا نظام اور معیار انتہائی ابتر حالت میں ہے اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے‘ سول سروس کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق استوار کرنے کی ضرورت ہے‘ جو شخص سیکرٹری بن جاتا ہے وہ ہر چیز کا ماہر بن جاتا ہے ایک روز وہ اطلاعات کا ماہر ہوتا ہے تو دوسرے روز وہ معیشت اور سائنس و ٹیکنالوجی کا ایکسپرٹ بن جاتا ہے۔ پاکستان میں سول سروس کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کو توانائی بحران کا سامنا ہے اس کا کیاحل ہے تو ڈاکٹر اے کیو خان نے کہا کہ اس کا بھی حل موجود ہے‘ میگا پراجیکٹس پر پیسہ لگانے کی بجائے بجلی پیدا کی جائے جس سے صنعتیں چل سکیں اور پاکستان کی برآمدات بڑھیں‘ یہاں سینکڑوں سال تک ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے دعوے کئے گئے وہ دعوے کیا ہوئے۔ میرا ضمیر مطمئن ہے تمام تر الزامات کے باوجود میں مطمئن ضمیر کے ساتھ زندہ ہوں یوم تکبیر پر ہزاروں پاکستانیوں نے جو پیغامات بھیجے ہیں ان سے میرا حوصلہ بہت بڑھا ہے۔