پاکستان نے زمبابوے کو6 وکٹوں سے ہرا کر ون ڈے سیریز بھی جیت لی، ملک بھر میں جشن

پاکستان نے زمبابوے کو6 وکٹوں سے ہرا کر ون ڈے سیریز بھی جیت لی، ملک بھر میں جشن

لاہور (چودھری اشرف + نامہ نگار) پاکستان ٹیم نے دوسرے ایک روزہ انٹرنیشنل میچ میں مہمان زمبابوے ٹیم کو 6 وکٹوں سے شکست دیکر تین میچوں کی سیریز دو صفر سے اپنے نام کر لی۔ پاکستانی بلے بازوں نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 269 رنز کا ہدف 47.2 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ پاکستان کی طرف سے اظہر علی جبکہ زمبابوے کی جانب سے پاکستانی نژاد سکندر رضا نے ناقابل شکست سنچری سکور کی۔ قذافی سٹیڈیم میں زمبابوے کیخلاف تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں بھی ٹاس پاکستانی ٹیم کے کپتان اظہر علی نے جیتا اور پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ پہلے ایک روزہ میچ میں41 رنز سے شکست کھانے اور ٹیم کے کپتان ایلٹن چگمبورا کی عدم موجودگی میں مہمان ٹیم نے اننگز کا آغاز پراعتماد طریقے سے کیا۔ سیباندا اور چیبابا نے اننگز کا آغاز کیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 83 رنز بنائے۔ اس موقع پر سیبانڈا جو محتاط انداز اپنائے ہوئے تھے، 47 گیندوں پر 13 رنز بنانے کے بعد حفیظ کی گیند پر کلین بولڈ آوٹ ہو گئے۔ 114 کے سکور پر زمبابوے ٹیم کو دوسرا نقصان کپتان مساکاڈزا کی وکٹ کی صورت میں اٹھانا پڑا، وہ 18 رنز بنانے کے بعد یاسر شاہ کی گیند پر حفیظ کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ مساکاڈزا امپائر کے فیصلے سے خوش دکھائی نہیں دیئے اور مایوسی کے عالم میں پویلین لوٹ گئے۔ انہوں نے 18 رنز سکور کئے۔ شان ولیمز چیبابا کا ساتھ دینے کے لیے میدان میں آئے لیکن وہ صرف 5 رنز بنانے کے بعد یاسر شاہ کی گیند پر انہی کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوگئے۔ زمبابوے کا سکور 156 پر پہنچا تو چیبابا 99 کے انفرادی سکور پر شعیب ملک کا شکار ہو گئے۔ چیبابا نے 100 گیندوں کا سامنا کیا جس میں 11 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 99 رنز بنا سکے وہ شعیب ملک کی گیند پر سرفراز کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوئے۔ وہ ایک سکور کے فرق سے ون ڈے کیرئر کی پہلی سنچری مکمل نہ کر سکے۔ زمبابوے کی پانچویں وکٹ 209 کے سکور پر موٹومبامی کی گری، انہوں نے 7 رنز بنائے وہ انور علی کی گیند پر اسد شفیق کے ہاتھوں آوٹ ہوئے۔ مہمان ٹیم کا سکور 238 پر پہنچا تو اس موقع پر وہاب ریاض نے کووینٹری کو سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ آوٹ کرا کے پویلین کی راہ دکھا دی۔ کووینٹری نے ایک چھکے کی مدد سے 10 رنز بنائے۔ ساتویں وکٹ کریمیر کی گری انہیں بھی وہاب ریاض نے آوٹ کیا۔ کریمر نے 2 رنز بنائے۔ اس دوران پاکستانی نژاد زمبابوین کھلاڑی سکندر رضا نے ون ڈے کیرئر کی دوسری سنچری سکور کی۔ انہوں نے 84 گیندوں پر 8 چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 100 رنز بنائے۔ جبکہ ان کے ساتھ پیاننگرا 2 سکور کے ساتھ ناٹ آوٹ رہے۔ مہمان ٹیم نے سات وکٹوں کے نقصان پر 268 رنز سکور کئے۔ پاکستان کی طرف سے وہاب ریاض نے 55 رنز کے عوض دو، یاسر شاہ نے 40 رنز کے عوض دو کھلاڑیوں جبکہ انور علی، حفیظ اور شعیب ملک کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔ 269 رنز کے جواب میں پاکستان کی طرف سے اننگز کا آغاز کپتان اظہر علی اور سرفراز نے کیا۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان پہلی وکٹ کی شراکت میں 46 رنز بنے۔ اس موقع پر سرفراز احمد 22 کے انفرادی سکور پر چیبابا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آوٹ ہو گئے۔ ایم حفیظ کپتان اظہر علی کا ساتھ دینے کے لیے میدان میں آئے لیکن وہ بھی زیادہ دیر تک وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور 15 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔ انہوں نے 24 گیندوں کا سامنا کیا جس میں دو چوکے لگائے اور کریمر کی گیند پر کووینٹری کی ہاتھوں کیچ آوٹ ہوئے۔ اظہر علی نے اسد شفیق کے ساتھ ملکر پاکستان کے سکور کو آگے بڑھانا شروع کیا اور اس دوران اپنے کیرئر کی ساتویں نصف سنچری سکور کی۔ اظہر علی نے 51 گیندوں پر 6 چوکوں کی مدد سے پچاس رنز مکمل کیے۔ اظہر علی کا سکور 53 پر پہنچا تو کریمر کی گیند پر شاٹ کور پر کھڑے کھلاڑی نے ان کا کیچ ڈراپ کر دیا۔ پاکستان کی تیسری وکٹ 153 پر اسد شفیق کی گری جو کریمر کی گیند پر دفاعی انداز اپناتے ہوئے سکندر رضا کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ اظہر علی اور اسد شفیق کے درمیان تیسری وکٹ کی شراکت میں 85 رنز کی پارنٹر شپ قائم ہوئی۔ اسد نے 39 رنز بنائے۔ اس دوران پاکستان ٹیم کے کپتان اظہر علی نے ایک روز انٹرنیشنل کی اپنی دوسری سنچری 101 گیندوں پر 8 چوکوں کی مدد سے مکمل کی۔ 102 کے انفرادی سکور پر قومی کپتان موفریوا کی گیند پر شان ولیمز کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ اظہر علی اور حارث سہیل کے درمیان چوتھی وکٹ کی شراکت میں 56 رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی۔ نئے کھلاڑی شعیب ملک میدان میں آئے انہوں نے حارث سہیل کے ساتھ ملکر پانچویں وکٹ کی شراکت میں ناقابل شکست 60 رنز بنا پر پاکستان ٹیم کو چھ وکٹوں سے کامیاب کرا دیا۔ شعیب ملک نے 36 جبکہ حارث سہیل نے 52 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ زمبابوے کی جانب سے باولنگ میں کریمر نے دو جبکہ موپاریوا اور چیبابا نے ایک ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔ اظہر علی مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ پاکستان اس سے قبل ٹی ٹونٹی کی سیریز بھی جیت چکا ہے۔ پاکستان کی جیت پر ملک بھر میں فیملیوں نے جشن منایا اور بھنگڑے ڈالے۔ صدر، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے بھی ٹیم کو مبارکباد دی۔ دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ قبل ازیں قذافی سٹیڈیم میں دوسرے ون ڈے میچ کی سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور 9ہزار سے زائد اہلکاروں کو ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا تھا۔ سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس خود سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے رہے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنزلاہور ڈاکٹر حیدر اشرف، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور رانا ایاز سلیم، ایس ایس پی آپریشن محمد باقر رضا، ایس پی سکیورٹی کیپٹن (ر)لیاقت علی ملک سمیت تمام ڈویژنل ایس پیز، ایلیٹ فورس کے جوان و اہلکار بھی سٹیڈیم میں موجود تھے۔ سپیشل برانچ، حساس ادارے کے اہلکاروں اورینجرز نے بھی سکیورٹی کے فرائض سرانجام دئیے۔ میچ شروع ہونے سے قبل حساس ادارے اور پولیس کے اہلکاروں نے قذافی سٹیڈیم اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سرچ اینڈ سویپ آپریشن کیا۔ میچ شروع ہونے سے ایک گھنٹہ قبل قذافی سٹیڈیم کے تمام گیٹس بند کر دئیے تھے۔ بی بی سی کے مطابق پاکستانی کرکٹ ٹیم نے لگاتار پانچ ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد بالآخر پہلی سیریز جیت لی۔ پاکستان نے آخری بار دسمبر 2013ء میں سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ون ڈے سیریز 3-2 سے جیتی تھی۔