معظم علی کے معاملے پر برطانیہ سے معاملات طے پا گئے، چند روز میں اہم پیشرفت ہو گی: نثار

معظم علی کے معاملے پر برطانیہ سے معاملات طے پا گئے، چند روز میں اہم پیشرفت ہو گی: نثار

راولپنڈی (آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ایگزیکٹ کی تحقیقات کے لئے برطانوی وزارت داخلہ اور انٹرپول کو خط لکھ دیا ہے، اس کے خلاف مقدمہ درج ہوچکا ہے، تفتیش کے بعد مزید مقدمات درج کرنے پڑے تو کریں گے۔ عزیر بلوچ اور حماد صدیقی نظر میں ہے اسے بھاگنے نہیں دیں گے، آئندہ چند روز میں اہم معاملات سامنے آئیں گے، معظم علی کے معاملے پر پاکستان اور برطانیہ کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں اور چند روز میں اہم پیش رفت ہوگی۔ چک بیلی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹ کے معاملے پر دو بار میڈیا کو آگاہ کر چکا ہوں اس کی تحقیقات جاری ہے۔ ایف آئی اے انٹر پول سے بھی رابطے میں ہے۔ وزارت داخلہ نے برطانوی محکمہ داخلہ کو بھی معاملے کی تحقیقات میں مدد کیلئے خط لکھ دیا ہے۔ ایگزیکٹ کے خلاف مقدمات درج ہوچکا ہے، مقدمے کے بعد مزید اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ ضروری نہیں کہ ایگزیکٹ کے خلاف ایک ہی ایف آئی آر درج ہو، تفتیش کے بعد مزید مقدمات درج کرنا پڑے تو وہ بھی کریں گے۔ لیاری گینگ وار کا مرکزی ملزم عزیر بلوچ نظر میں ہے اب اسے بھاگنے نہیں دیں گے، ایف آئی اے یو اے ای حکومت کو بھی اہم امور کے لئے خط لکھنے کو تیار ہے۔ حماد صدیقی اور عزیر بلوچ کے چند روز میں اہم معاملات سامنے آئیں گے۔ متحدہ کے رہنما عمران فاروق کے قتل کے مرکزی ملزم معظم علی سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کی وزیر کے عہدے پر بحالی معمولی بات ہے۔ میرے معاملات پارٹی کے اندر تھے اور پارٹی کے اندر ہی طے ہو گئے ہیں۔ ایگزیکٹ سکینڈل کی تفتیش ابتدائی مرحلے میں ہے۔ معظم علی سے متعلق برطانیہ سے معاہدے کے تحت تعاون جاری ہے۔ چند روز میں برطانیہ سے تعاون میں مزید اضافہ ہوگا۔ عمران فاروق قتل کیس میں برطانیہ سے تعاون کے سلسلے میں طریق کار وضع کر لیا ہے۔ معظم علی کے بارے میں تفتیش مؤثر انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ نجی ٹی وی چینل بول کی سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی ہے۔ سکیورٹی کلیئرنس میں قواعد اور ضوابط پورے نہیں ہوئے تھے۔ پراسیکیوشن کا معاملہ بعد میں ہو گا۔ شواہد کی بہتات پر 4 دن میں ہی ایف آئی آر دینا پڑی ہے۔ عزیر بلوچ کے معاملے پر یو اے ای کی حکومت کو خط لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے دشمنوں کے پیٹ میں مروڑ اُٹھ رہے ہیں‘ جب یہ منصوبہ مکمل ہوگا تو پاکستان اقتصادی لحاظ سے بہت آگے نکل جائے گا، دنیا کے نقشے پر راہداری کے روٹ کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے گا۔ اس منصوبے پر 43 ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں اور اس منصوبے کے مکمل ہونے پر پاکستان کے نوجوانوں کی ڈگریاں ختم ہو جائیں گی لیکن نوکریاں ختم نہیں ہونگی، عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے برطانیہ سے طریقہ کار طے پاگیا ہے، پٹرولم منصوعات کے حوالے سے عالمی ریٹس اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں، بین الاقوامی سطح پر قیمتیں بڑھیں گی تو حکومت بھی پٹرولیم منصوعات میں اسی تناسب سے اضافہ کرے گی، ایگزیکٹ سکینڈل کا بین الاقوامی پس منظر ہے، ایف بی آئی کو قانونی معاونت کیلئے باقاعدہ خط تحریر کردیا ہے، ایف آئی اے کی درخواست پر برطانیہ کے ہوم آفس کو بھی چٹھی لکھ دی گئی، بہت سی معلومات انٹرپول سے حاصل کی جارہی ہیں، ایف آئی اے، یو اے ای حکومت کو اہم امور کے حوالے سے خط لکھنا چاہتی تھی جس کی باقاعدہ منظوری دی گئی ہے۔ بول کے ملازمین کے حوالے سے کہا تھا کہ ان کا سکینڈل سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا، ایگزیکٹ میں ہزاروں ملازم ہیں، انہیں بھی پتہ نہیں کہ ایگزیکٹ کیا کررہی ہے ،ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ میڈیا پرسن کو ہراساں نہ کریں۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے کہا کہ وزیرا عظم سے ملاقات میں گورنر خیبر پی کے اور وزراء بھی موجود تھے۔ اس کے بعد وزیراعظم کے ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے ساتھ ملاقات جاری رہی، اس بارے میں سٹوری شائع کی گئی جوحقائق کے برعکس ہے۔ میٹنگ کے حوالے سے غیر تصدیق شدہ خبریں شائع اور نشر کیں گئیں۔ پی ٹی آئی کے پار ٹی الیکشن میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب بھی وہ تمام لوگ پی ٹی آئی کی قیادت میں نظر آرہے ہیں جو پہلے تھے، صرف عہدوں کے نام تبدیل کئے گئے ہیں، دھاندلی ہوئی تو چیف آرگنائزر سے نچلی سطح تک وہی لوگ کیوں ہیں، جسٹس وجیہہ الدین احمدکی رپورٹ میں جس کو مودر الزام ٹھہرایا گیا، وہ اب بھی اہم مقامات پر ہیں، ہمیں کہتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی، نگران حکومت تو پیپلز پارٹی کی قائم کردہ تھی، صرف پنجاب میں چیف سیکرٹری سے کلرک تک تبدیل کئے گئے، پھر کیسے دھاندلی کی۔ نگران سیٹ اپ نے شہباز شریف کے لوگ ہٹائے، پی ٹی آئی ہر روز بیان بدلتی ہے، وہ بھی بھول جاتے ہیں اور قوم بھی بھول جاتی ہے۔ میرے آبائی علاقے میں مسلم لیگ (ن) زندہ ہے، اس علاقے میں شیروں کا ہی راج ہے اور رہے گا، 13سال سے دہشت گردی نے افراتفری مچائی ہوئی تھی۔ 30ہزار جانیں دہشت گردی کی آگ میں لقمہ اجل بنیں، لاکھوں کروڑوں نہیں اربوں کے ذاتی، سرکاری اور قومی نقصان بھی ہوئے، مساجد ،جنازوں، بازاروں، پولیس، افواج پاکستان، جی ایچ کیو، نیوی پر حملے ہوئے، پچھلی کسی حکومت نے اس ردعمل کا اظہار نہیں کیا جو ہونا چاہے تھا، جون 2013 ء میں اقتدار سنبھالا تو اس وقت کا ریکارڈ دیکھیں تو روز دھماکے ہوتے تھے، پشاور ہر روز جنازے اٹھتے تھے،کوئٹہ کے لوگوں پر زمین تنگ ہوگئی تھی ،اہل تشیع کے خاندان کے خاندان برباد کر دیئے گئے تھے، گھمبیر حالات کو ٹھیک کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آسان کام کیا ہے تو کہوں گاکہ اپوزیشن کی تقریریں اور مشکل کام حکومت چلانا ہے، خیبر سے کراچی تک پاکستانی کندھوں پر جنازے اٹھا اٹھا کر تنگ آچکے تھے، موجودہ حکومت نے ایک پالیسی قومی اتفاق رائے سے بنائی۔ حکومت نے قومی اتفاق رائے کیلئے اس بات کی حمایت کی کہ حکومت عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کرے، آٹھ ماہ مذاکرات کئے۔ پڑوسی وزیر کے بیان نے سب کچھ عیاں کردیا ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی کے پیچھے کون ہے، یہ دنیا میں کم ہوا ہوگا کہ کسی ملک کا اہم ترین وزیر اپنی زبان سے دوسرے ملک میں دہشت گردی کرانے کی ذمہ داری لے۔ انہوں نے پروسٹی ملک کے وزیر کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ جب سے پاکستان بنا ہے اسے صفہ ہستی سے مٹانے کیلئے کوئی کوشش نہیں چھوڑی، 68سال بعد بھی پاکستان قائم ہے اور رہے گا۔