مستونگ:2 کوچز کے21 مسافر اغوا کے بعد قتل،6 بازیاب ، متعدد یرغمال

مستونگ:2 کوچز کے21 مسافر اغوا کے بعد قتل،6 بازیاب ، متعدد یرغمال

کوئٹہ (بیورو رپورٹ+ نوائے وقت رپورٹ) مستونگ کے علاقے میں مسلح افراد نے 2 کوچز کے 35 سے 40مسافروں کو یرغمال بنالیا۔ 21 مسافروں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا جبکہ ایک زخمی سمیت 6 کو بازیاب کرالیا گیا۔ باقی مسافروں کی بازیابی کے لئے ایف سی کا آپریشن جاری تھا۔ دہشت گردوں نے ایک تیسری کوچ پر بھی فائرنگ کی مگر وہ وہاں نہ رکی، سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کی رات ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ کے قریب 20 سے 25 دہشت گردوں نے کوئٹہ سے کراچی جانے والی 2مسافر کوچز سے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد مسافروں کو اغوا کیا اور قریبی پہاڑوں میں لے گئے جہاں 20 مسافروں کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا جبکہ لیویز اور ایف سی نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد 5 مغویوں کو بازیاب کرالیا گیا، رات گئے تک دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا اور کوئٹہ کراچی شاہراہ کو ہر قسم کی آمدورفت کیلئے بند کردیا گیا۔ دریں اثناءصوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ مستونگ کے علاقے میں بسوں سے اتار کر مسافروں کو اغوا کرنے والے ملزما ن اور سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ رات گئے تک جاری رہا۔ مغویوں سے 6 افراد کو بازیاب کرالیا گیا۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹروں نے احتجاجاً اپنی گاڑیاں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر مختلف جگہوں پر کھڑی کرکے شدید احتجاج کیا۔ حملہ آوروں نے بسوں کے اندر جاکر مسافروں کی شناخت کی۔ شاہد یعقوب نے میڈیا کو بتایا کہ مسلح افراد نے میرے سامنے مسافروں پر فائرنگ کی۔ وزیراعظم نوازشریف نے مستونگ میں مسافروں کے اغوا اور قتل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے مستونگ واقع کی رپورٹ طلب کرلی ہے وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ واقعہ میں ملوث مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، ہم لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ علاوہ ازیں وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے 5 مسافروں کو بازیاب کرا لیا، 35 کے قریب اغوا کاروں کی اطلاع ہے۔ دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز کی وردی پہنی ہوئی تھی۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے مستونگ میں واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور جاں بحق ہونے والے مسافروں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ علاوہ ازیں وزیر داخلہ چودھری نثار نے مستونگ سانحہ کا نوٹس لے لیا ہے اور واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ شہریوں کی ہلاکت قابل افسوس ہے۔ انہوں نے ایف سی کو ریسکیو آپریشن کیلئے دو ہیلی کاپٹر اور وسائل فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں متحدہ کے قائد الطاف حسین نے بھی واقعہ پر اظہار افسوس کیا ہے اور واقعہ کی مذمت کی ہے۔ پشتونخواں ملی عوامی پارٹی نے بھی واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ علاوہ ازیں اسسٹنٹ کمشنر مستونگ کے مطابق اغوا کاروں نے 20مسافروں کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایک زخمی سمیت 6مسافروں کو بازیاب کرا لیا گیا، جاں بحق 20افراد کی نعشیں ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مارے جانے والوں میں اکثریت پختونوں کی ہے یہ پہلا واقعہ ہے جس میں پختونوں کی اتنی بڑی تعداد میں کسی واقعہ میں مارے گئے ہیں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ پختونوں اور بلوچوں کو آپس میں لڑانا چاہتی ہے اس لئے یہ کارروائی کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ ن نے مستونگ کے واقعہ پر 3روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، سراج الحق، اہلسنت و الجماعت کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے بھی مستونگ سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ الطاف حسین نے کہا کہ واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے مسافروں کے قتل اور اغوا پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ مسافروں کا قتل درندگی کی بدترین مثال ہے۔ ترجمان پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے کہا ہے کہ مستونگ کا واقعہ قابل مذمت ہے۔ سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ ناصر عباس نے مستونگ سانحے کی مذمت کی ہے۔ اہلسنت و الجماعت کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی نے بھی واقعہ کی مذمت کی ہے۔ ترجمان اے این پی نے بھی سانحہ مستونگ میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ علاوہ ازیں مستونگ سانحے کے خلاف انجمن تاجران اور آل مارکیٹ ایسوسی ایشن نے آج ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ہڑتال کے دوران مکمل شٹرڈاﺅن ہو گا۔