سعودی عرب: مسجد کے باہر خودکش دھماکہ،4 افراد جاں بحق،10 زخمی، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

سعودی عرب: مسجد کے باہر خودکش دھماکہ،4 افراد جاں بحق،10 زخمی، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

ریاض + اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) سعودی عرب کے شہر دمام میں نمازجمعہ کے دوران مسجد کے باہر ایک اور خودکش دھماکے میں 4 افراد جاںبحق اور 10 زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے دھماکے میں 4 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ برقع پہنے حملہ آور نے خودکو مسجد کے دروازے پر اڑایا۔ سکیورٹی اداروں نے مسجد کو تباہ کرنے کی سازش ناکام بنا دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ دمام شہر میں شیعہ امام حسینؓ مسجد کے باہر ہوا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نماز جمعہ کے لئے خطبہ دیا جارہا تھا کہ اس دوران مسجد کے قریب زور دار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے فوری بعد پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز سمیت امدادی ٹیموں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی۔ دھماکے کے بعد مسجد میں بھگدڑ مچ گئی جس سے کئی نمازی زخمی ہوگئے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ مسجد کے باہر کھڑی کئی گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں جبکہ اردگرد انسانی اعضاء بکھر گئے، آسمان پر دھوئیں کے کالے بادل چھا گئے۔ دھماکے کے بعد سعودی سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نوازشریف نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔ واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو بھی سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران مسجد امام علی میں خودکش حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 21 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ علاوہ ازیں مسجد کے باہر دھماکے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کر لی ہے۔ لاہور سے خصوصی رپورٹر کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے بھی مسجد کے باہر خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید، مولانا فضل الرحمن اور سینیٹر ساجد میر نے بھی گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ آئی این پی کے مطابق مسجد کے باہر خودکش دھماکہ کرنے والے بمبار کو امریکی یونیورسٹی کے 25 سالہ گریجویٹ نے روک کر بڑی تباہی اور جانی نقصان سے بچا لیا۔ امریکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق خودکش حملے کے بعد ایک عینی شاہد محمد ادریس نے بتایا ہے کہ خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ایک نوجوان نے اسکا پیچھا کیا جو مسجد کے داخلی راستے پر واقع چیک پوائنٹ پر موجود تھا۔ خودکش حملہ آور مسجد کے جنوبی راستے سے خواتین والے سیکشن میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ نوجوان کی شناخت عبدالجلیل ابراش کے نام سے ہوئی ہے جو امریکی یونیورسٹی سے گریجویٹ ہے۔