بجلی پر سرچارج غیر قانونی قرار، رقم واپس کی جائے : ہائیکورٹ

خبریں ماخذ  |  خصوصی نامہ نگار
 بجلی پر سرچارج غیر قانونی قرار، رقم   واپس کی جائے : ہائیکورٹ

 لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا،فیصلے کےمطابق  نیپرا ایکٹ کے سیکشن اکتیس کا سب سیکشن پانچ آئین سے متصادم ہے،نیپرا قانون ساز ادارہ ہونے کی حیثیت میں کسی قسم کے سرچارج کی وصولی کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا،عدالت نے نیلم جہلم سرچارج،ایکولائزیشن،ڈیبٹ سرچارج اور یونیورسل سرچارج کی وصولی کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا،عدالت نے بجلی کے بلوں میں وصول کئے جانے والے چاروں سرچارجز صارفین کو فوری طور پر واپس کرنے کی ہدائت کرتے ہوئے تین ماہ میں عمل درآمد کی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا بھی حکم دے دیا،عدالت نے پندرہ یوم کے لئے فیصلہ موخر کرنے کی وفاقی حکومت کی استدعا بھی مسترد کر دی،وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلہ موخر کرنے کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئندہ سال کا وفاقی بجٹ تیار کر لیا گیا ہے اگر فیصلہ موخر نہ کیا گیا توعدالتی فیصلے سے بجٹ متاثر ہو سکتا ہے۔