بجلی بلوں پر سرچارجز غیر قانونی ہیں، صارفین کو رقم واپس کی جائے: لاہور ہائیکورٹ

بجلی بلوں پر سرچارجز غیر قانونی ہیں، صارفین کو رقم واپس کی جائے: لاہور ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) ہائیکورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ اور مسز جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل ڈویژن بنچ نے بجلی بلوں میں لگائے گئے نیلم جہلم، ایکولائزیشن، ڈیٹ سرونگ اور یونیورسل اوبلی گیشن فنڈ سرچارج اور ان سرچارجزکی وصولی کو غیر قانونی آئین و قانون سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیدیا ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ مذکورہ سرچارجز کی مد میں صارفین سے لی گئی رقم واپس کی جائے یا اسے بلوں میں ایڈجسٹ کیا جائے۔ عدالت نے نیپرا کو تین ماہ کے اندر ری پیمنٹ پلان بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالت نے پندرہ یوم کے لئے فیصلہ مؤخر کرنے کی وفاقی حکومت کی استدعا بھی مسترد کر دی گئی۔ انٹرا کورٹ اپیل پر سنائے گئے فیصلے میں کہا ہے کہ ریگولیشن ،ٹرانسمشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور ایکٹ1997کا سیکشن31(5) آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔درخواست گزاروں کے وکلاء محمد اظہر صدیق اور دیگر نے اپنے دلائل میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل9اور14کے تحت بجلی کی فراہم کے بنیادی حق میں ان سرچارجز کی وصولی آئین کے آرٹیکل3کے تحت شہریوں کا استحصال ہے۔شہریوں سے ان سرچارجز کے ذریعے لائن لاسز اور بجلی چوری کی وصولیاں غیر قانونی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ نیپرا قانون ساز ادارہ ہونے کی حیثیت میں کسی قسم کے سرچارج کی وصولی کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئندہ سال کا وفاقی بجٹ تیار کر لیا گیا ہے اگر فیصلہ مؤخر نہ کیا گیا تو بجٹ متاثر ہو سکتا ہے۔