آرمی چیف کے دورے کے بعد سوات میں آپریشن تیز کر دیا گیا‘ 7 عسکریت پسندوں سمیت 13 افراد جاں بحق

سوات+ پشاور (ایجنسیاں+ نامہ نگار) آرمی چیف کے دورے کے بعد سوات میں آپریشن تیز کر دیا گیا ہے۔ فورسز نے مختلف علاقوں پر شدید گولہ باری کی ہے جس میں 7 عسکریت پسندوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مٹہ میں گاڑی پر فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ڈی آئی جی کے دفتر پر راکٹ سے حملہ کیا گیا تاہم وہ محفوظ رہے۔ سکیورٹی فورسز نے منگلور‘ چارباغ اور تحصیل مٹہ کے بالائی علاقوں میں بھاری توپخانے اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بھی عسکریت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ فورسز کے قافلوں پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملے کئے گئے ہیں۔ میرانشاہ میں چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا جوابی کارروائی میں دو مزاحمت کار مارے گئے۔ میرانشاہ میں مقامی طالبان نے ایک پولیس اہلکار سمیت 2 افراد کو امریکہ کیلئے جاسوسی کے الزام میں قتل کر دیا۔ جبکہ 4 مذہبی رہنمائوں کو بھی اغواء کر لیا گیا۔ منگلور، چارباغ، کوڑک، شکردرہ، برہ بانڈی، کوزہ بانڈی پر بھاری توپ خانے سے شدید گولہ باری جاری ہے جبکہ سکیورٹی فورسز فضا گٹ سے چارباغ کی طرف پیشقدمی کر رہی ہیں۔ مٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے گاڑی میں بیٹھے دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ سوات کے بالائی علاقوں میں کرفیو کی وجہ سے علاقے میں اشیائے خوردونوش کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور شاہراؤں کی بندش سے لوگ گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔ فورسز نے نقل مکانی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ منگور سے مزید 3 نعشیں برآمد ہوئی ہیں۔ راکٹ حملے سے ڈی آئی جی آفس کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ گیزر پھٹنے سے ہوا ۔ بنوں میں باران پل پر سیکورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپ میں شدت پسندوں کو جانی نقصان پہنچا ہے۔ پشاور کے نواحی علاقے خٹکو پل کے قریب پولیس نے شدت پسندوں کے اہم کمانڈر ارشد علی اور ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ دریں اثناء سوات کے علاقے چارباغ اور کانجو میں سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ کرم ایجنسی کے علاقے طورغر میں گاڑی پر نامعلوم شدت پسندوں کی فائرنگ سے طوری قبیلے کا ایک فرد قتل جبکہ متعدد کو اغواء کر لیا گیا۔ فائرنگ کے واقعہ کے بعد قبائل کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں عمائدین نے مطالبہ کیا کہ حکومت شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے ورنہ قبائل اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ بنوں میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر 50 سے زائد مزاحمت کاروں نے حملہ کر دیا۔ طالبان نے 40 راکٹ فائر کئے تاہم سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دو مزاحمت کار جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہو گئے۔ این این آئی کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں افغان عسکریت پسندوں نے پاکستان مخالف پمفلٹ گرائے ہیں۔ فضا گھٹ سے خوازہ خیلہ اور مڈ روڈ پر کرفیو بدستور نافذ ہے جبکہ مینگورہ میں رات دس بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ رہا۔ ادھر بنوں میں آزار منڈی کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی الٹنے سے 5 اہلکار زخمی ہو گئے۔ ضلع بنوں اور ملحقہ علاقوں میں امریکی جاسوسی طیاروں کی پروازوں میں اضافہ ہو گیا۔ دریں اثناء گلف نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ طالبان لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کیلئے تیار ہو گئے ۔