آئی جی ایف سی بلوچستان آج لاپتہ افراد لائیں ورنہ مقدمہ درج کرائینگے‘ دیکھیں گے پولیس کیسے گرفتار نہیں کرتی: چیف جسٹس

آئی جی ایف سی بلوچستان آج لاپتہ افراد لائیں ورنہ مقدمہ درج کرائینگے‘ دیکھیں گے پولیس کیسے گرفتار نہیں کرتی: چیف جسٹس

کراچی (وقائع نگار+نوائے وقت نیوز + ثناء نیوز+  آئی این پی) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے حکومت کو مزید ایک دن کی مہلت دیتے ہوئے تمام لاپتہ افراد کو  آج  عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔  عدالت نے کہا ہے کہ آئی جی  ایف سی بلوچستان  میجر جنرل   اعجاز شاہ  بلوچستان کے  لاپتہ افراد  کو  آج عدالت میں  پیش کریں  خود بھی حاضر ہوں۔ آئی جی ایف سی لا پتہ افراد  سمیت  پیش نہ ہوئے تو انکے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے پھر ہم دیکھیں گے کہ پولیس انہیں کیسے گرفتار نہیں کرتی اب کوئی رعایت نہیں دینگے جو ہوگا دیکھا جائیگا۔ لاپتہ افراد  سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس  افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 4 رکنی بنچ  نے کی ۔ سماعت کے دوران  وزیر دفاع  خواجہ آصف بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نئی حکومت کے آنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا، اب بھی لوگ لاپتہ ہورہے ہیں۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے حکومت کو پالیسی بنانی چاہئے۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ بلوچستان سے پیدل چل کر کراچی آئے کیا وزیراعظم اور وزیر دفاع کو لوگوں کی پریشانی کا احساس نہیں، ہماری یہ ثقافت نہیں کہ خواتین سڑکوں  پر نکلیں۔ چیف جسٹس  نے کہا کہ لوگوں کے اغوا میں ایف سی کے علاوہ آئی ایس آئی کا بھی نام آرہا ہے۔  چیف جسٹس نے حکم دیا کہ لاپتہ ہونے والے تمام افراد کو آج عدالت میں پیش کیا جائے۔ چیف جسٹس  نے کہا کہ کیا بلوچستان میں ایف سی نے متوازی حکومت قائم کرلی ہے، ایسا لگتا ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایف سی کے سامنے بے بس ہیں۔ چیف جسٹس  نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری دورمیں لاپتہ افراد کے لواحقین پیدل سفر کرکے کراچی پہنچے، ان کے یہاں پہنچنے پر بھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔  چیف جسٹس نے آئی جی ایف سی کو آج لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے جن کیسز میں ایف سی اہلکاروں کیخلاف مقدمات ہیںان کو بھی بلائیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اب اس کیس کے سنجیدہ نتائج نکلنے والے ہیں،آپ دیکھیں گے۔ لوگوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے، آپ کیا کررہے ہیں ۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے  روسٹرم پر آکر جواب دیا کہ میں وقفے میں خود جا کر لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب ان کے پاس جا کر آپ کیا کریں گے۔آپ ان کے بندے لا کر دیں تب ان کی داد رسی ہوگی۔ آپ لوگ سمجھتے کیوں نہیںکہ ٹی وی پر آپ کے خلاف ہی تشہیر ہورہی ہے ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ تین چار سال سے یہ مسائل ہیں ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔ میں لا پتہ افراد کے اہلخانہ سے ملنا چاہتا ہوں۔ انہیں واپس گھروں میں بھیجتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ جو لوگ بیٹھے ہیں وہ  جائیں نہ ہم انہیں جانے کا کہیں گے۔ آپ جائیں لا پتہ افراد کو لے کر آئیں۔ کراچی والے مہمان نواز ہیں آپ کچھ کریں یا نہ کریں وہ ان کی خدمت کریں گے۔ جسٹس جواد نے کہا آئین پر اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھا ہے کون کہتا ہے یہ اسلامی جمہوریہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا یہ  سیاسی جمہوری اور منتخب حکومت ہے۔ بلوچستان کا کلچر نہیں کہ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں سڑکوں پر نکلیں۔ بلوچستان کے لوگوں کو سلا م پیش کرتا ہوں۔ بلوچستان کے لوگوں نے تکالیف برداشت کرکے احتجاج کا جمہوری طریقہ اختیار کیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا  کہ کیا آئی بی وفاقی حکومت کی اپنی ایجنسی نہیں؟ آئی ایس آئی،ایم آئی، آئی بی تعاون نہیں کرتیں آپ بھی بے بس ہیں تو بتا دیں۔ چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف سی وفاق کے ماتحت نہیں۔ کیا آئی بی وفاقی حکومت کی اپنی ایجنسی نہیں۔ چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ لوگوں نے یہ سوچ رکھا ہے کہ صرف سپریم کورٹ کی مخالفت میں کام کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے ایف سی کے وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ آپ کے سامنے بے بس ہوچکے ہیں۔ اب کیا چاہتے ہیں حکومتیں ناکام ہو جائیں۔ آپ نے کچھ کیا ہوتا تو وزیراعلیٰ بلوچستان اپنے ہاتھ کھڑے نہ کرتے۔ جسٹس خلجی نے  کہا کہ  پریس کلب کے باہر بیٹھے لوگ اپنے نہیں دوسرے صوبے کے دارالحکومت میں ہیں۔ اس کا مطلب ہے یہ لوگ اپنی حکومت سے مایوس ہوچکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ریاست کی فلاح کی بات کرتے ہیں مگر عدلیہ کے خلاف مہم چلوائی جاتی ہے۔ بلوچستان حکومت کے وکیل سے  چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فیصلہ سنا دیں گے لوگ سڑکوں پر آئیں تو نمٹتے رہنا۔ سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت دو دسمبر تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ حکومت مالاکنڈ سے 35 لاپتہ  افراد کو دو دسمبر کو عدالت میں پیش کرے، جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عدالتی حکم پر بھی لاپتہ افراد کو پیش نہیں کیا جارہا، آئین کی کیا حیثیت رہ گئی جب ہمیں پتہ ہے کہ فوج 35 بندے لے گئی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ انہیں ضد ہے کہ لاپتہ افراد کو نہیں لانا لیکن انہیں لانا پڑے گا۔ ادارے عدالت کا احترام کر رہے ہوتے تو 35 افراد کو عدالت میں پیش کر دیتے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے بنچ سے استدعا کی کہ تھوڑا وقت دیں ہم بازیاب کرائیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب ہم انہیں کوئی رعایت نہیں دیں گے۔ ٹھیک ہے وزیر دفاع آپ کہہ دیں صبح تک 35 بندے عدالت میں پیش کریں۔ چیف جسٹس  نے کہا کہ آخر یہ بندے کہاں گئے؟ کیا زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟ ہمیں پتہ ہے ان لوگوں میں  یاسین شاہ بھی شامل ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے عدالت کو بتایا کہ یاسین شاہ نامی شخص  اداروں کے کسی سیٹ اپ میں موجود نہیں۔ میری معلومات کے مطابق  باقی 32 سے 34 لوگ مالاکنڈ  جیل منتقل کئے گئے۔ مالاکنڈ کے سپرنٹنڈنٹ جیل نے بتایا کہ یاسین شاہ اور 34 بندے  فوجی  لے گئے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ نے درخواست کی کہ 35 لاپتہ افراد کی معلومات  کے لئے کچھ وقت  دیا جائے۔ بنچ سے استدعا ہے تھوڑا وقت دیں ہم بازیاب کرائیں گے۔ وقت دیا جائے، چیف آف آرمی سٹاف آج کل مصروف ہیں مجھے چیف آف آرمی سٹاف سمیت اعلی افسروں سے بات کرنا ہو گی میں براہ راست اور وزیراعظم کے ذریعے چیف آف آرمی سٹاف سے بات کروں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ادارے عدالت کا احترام کر رہے ہوتے تو 35  افراد کو عدالت میں پیش کر دیتے،  انہیں ضد ہے کہ لاپتہ افراد کو نہیں لانا لیکن انہیں لانا پڑے گا۔ سیکرٹری دفاع کہیں لکھ کر دے دیں کہ پیر تک 35 افراد پیش کر دیں گے۔ اب ہم انہیں کوئی رعایت نہیں دیں گے۔ ملک بھر کے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کریں گے۔ اگر یہ بندے نہیں دے گا تو ہم ان کے ٹاپ مین کو بلائیں گے۔  عدالت کے سامنے سب برابر ہیں ٹھیک ہے 35 افراد نہیں یاسین شاہ کو پیش کریں۔ سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں کہا کہ فوج 35 بندے لے کر گئی ہے پھر آئین کی حیثیت کیا رہ گئی؟ وزیر دفاع دو دسمبر تک 35 افراد عدالت میں پیش کریں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ کوئی مؤثر حکم دیدیا تو پھر آپ جانیں اور آپ کی حکومت، لوگ سڑکوں پر آئیں گے تو نمٹتے رہنا! جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے صوبیدار امان اللہ بیگ ان 35 افراد کو لے کر گیا۔ 
کراچی (وقائع نگار+ نوائے وقت رپورٹ)  وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سپریم کورٹ  کے حکم پر عملدرآمد کرے گی۔ کسی شخص  کو غیر آئینی طور پر گرفتار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ لاپتہ افراد سے متعلق  جلد قانون سازی کی جائے گی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے انہوں  نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی سفارشات میں قانون سازی کی ہے، حکومت  کے پاس احکامات  منوانے کی رٹ موجود ہے  لاپتہ  افراد  کا سراغ لگانا ریاست کی  ذمہ داری ہے، ایسی پالیسی بنائیں گے کہ آئندہ  ایسے اقدامات  نہ ہوں۔ 738لاپتہ  افراد کا سراغ لگا لیا باقی  کا بھی لگائیں  گے،  میری  معلومات  کے مطابق 32 سے 34  لوگ مالاکنڈ  جیل منتقل کئے گئے،  لاپتہ افراد کے مسئلے کو مہینوں اور ہفتوں میں حل کر لیا جائے گا‘ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں 738افراد کی فہرست پیش کی ہے جس ادارے نے بھی شہریوں کو غائب کیا ہے انہیں بازیاب کرایا جائے گا‘  لاپتہ افراد کی بازیابی  کی ذمہ داری حکومت کی ہے ‘ لاپتہ افراد  اگر مجرم ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے ‘ قانون سے ماورا کوئی بھی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ ہم نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ سماعت پر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق پیش رفت سامنے لائی جائے گی۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ برسوں  نہیں  مہینوں میں حل کریں گے ہماری حکومت کی ذمہ داری  ہے کہ وہ لاپتہ افراد کو بازیاب کراتے ہوئے  ان میں سے مجرموں کو عدالت میں پیش کرے۔  بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے علاوہ بلوچستان کو اس کے پورے حقوق دیئے جائیں گے۔ بلوچستان سمیت ملک بھر کے تمام مسائل کے حل کی ذمہ داری ہماری حکومت کی ہے  جلد ہی حکومت اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی پوزیشن میں آجائے گی۔  ڈرون حملوں  سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری کے خلاف اور نا قابل برداشت ہیں، ڈرون حملو ں کا معاملہ دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر اٹھائیں گے۔ 10 دسمبر سے  قبل لاپتہ افراد کی بازیابی  سے متعلق رپورٹ  جمع کرائیں گے۔  چار ماہ میں  738 افراد  کا پتہ چلایا ہے اٹارنی جنرل  نے رپورٹ سپریم کورٹ  میں جمع کرا دی ہے۔  ڈرون حملے  کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے۔  ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت  کی پالیسی  ہے کہ جو لوگ  بھی کسی جرم میں  ملوث  ہیں ان کا قانون  کے مطابق ٹرائل  کیا جائے قانون  اور آئین  سے ماورا  کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔  مہذب معاشرے  میں قانون سے ماورا کوئی نہیں افراد کے لاپتہ ہونے میں صوبائی حکومت کی نااہلی بھی شامل ہے۔ نئی حکومت کے آنے سے تین چار مہینے کی نسبت آج کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے حکومت لاپتہ افراد کیس منطقی انجام تک پہنچائے گی۔