پاکستانی تجویز پر بھارت نے جامع مذاکرات کی بحالی پر رضا مندی ظاہر کردی

پاکستانی تجویز پر بھارت نے جامع مذاکرات کی بحالی پر رضا مندی ظاہر کردی

نئی دہلی (نوائے وقت رپورٹ+ایجنسیاں) بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت نے پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کی بحالی پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ اگست میں سیکرٹری آبپاشی کی سطح پر مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔ وولر بیراج کے مسئلے پر مذاکرات 27 اور 28 اگست کو جبکہ سرکریک میری ٹائم سرحد تنازع پر 16 اور 17 ستمبر کو سروئیر جنرل کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔ بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ وزیراعظم نوازشریف سے ستمبر میں نیویارک میں ملاقات کریں گے۔ بھارتی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے حکام جامع مذاکرات کیلئے پاکستان کی تجویز کردہ تاریخوں کا مثبت جواب دینے کیلئے تیار ہیں ۔ پاکستان کی تجویز کردہ تاریخوں کے مطابق وولر بیراج کے مسئلے پر مذاکرات 27 اور 28 اگست کو جبکہ سرکریک میری ٹائم سرحد تنازع پر 16 اور 17 ستمبر کو سروئیر جنرل کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔ روڈ میپ کے مطابق خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان کشمیر کے تنازع پرمذاکرات کے ساتھ ساتھ پاکستان پانی اور سرکریک پر بات چیت کی میزبانی کریگا جبکہ بھارت سیاچن گلیشیر پر مذاکرات کی میزبانی کریگا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکراتی عمل آئندہ ماہ بحال ہوجائیگا۔ پاکستان نے پانی اورسرکریک کے معاملوں پرسیکرٹریوں سطح کے مذاکرات کے تیسرے دورکےلئے تاریخیں تجویز کیں جن پر بھارت سنجیدگی سے غور کررہا ہے۔ دونوں ملکوں کے مشترکہ کمیشن 8 ٹیکنیکل گروپوں کے مذاکرات کی تاریخوں پربھی مشاورت جاری ہے، 4 اجلا س نئی دہلی اور 4 اسلام آباد میں ہونگے۔ بھارتی اخبارکے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کا عمل جو جنوری میں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے سبب معطل ہوگیا تھا، آئندہ ماہ بحال ہوجائیگا۔ آبی منصوبوں کے حوالے سے پاکستان بھارت حکام کے ملاقات اس سال جنوری میں طے تھی جسے بھارت نے سیکرٹری پانی و بجلی کی ریٹائرمنٹ کا کہہ کر مارچ تک معطل کردیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان کی تجاویز کا مثبت جواب دیا جائیگا۔ مقبوضہ کشمیرکے ایک اخبارکی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکریٹری سطح پر مسئلہ کشمیر، سیاچن، سرکریک، اقتصادی تجارتی تعاون، باہمی دوستانہ تبادلے، دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ اور امن و سلامتی کے معاملات پر ستمبر میں بات چیت ہونے کے روشن امکانات ہیں۔ بھارت اورپاکستان کے درمیان جامع مذاکرات کا تیسرا راونڈ اگلے ماہ شروع ہونیوالا ہے۔ تیسرے کمپوزٹ مذاکرات کا عمل اسلام آباد اور نئی دلی میں خارجہ سیکرٹریوں کے مذاکرات سے دوبارہ شروع ہوگا۔ معلوم ہوا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ مذاکرات نومبر میں ہونے کی توقع ہے۔مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ اس مہینے کے آغاز میں برونائی میں وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید کے درمیان آسیان کی سائیڈ لائن ملاقات میں ہوا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ستمبر میں پاکستان اور بھارت وزرائے اعظم میں ملاقات ہوگی، دونوں رہنماﺅں کی ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ہوگی۔ واضح رہے کہ نوائے وقت اور دی نیشن پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے خبر 27 جولائی کو شائع کر چکے ہیں۔