نواز شریف کی حکمت عملی کامیاب‘ متحدہ اپوزیشن کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا

اسلام آباد (محمد نواز رضا۔ وقائع نگار خصوصی) مسلم لیگ (ن) کے صدر و وزیراعظم محمد نواز شریف کی سیاسی حکمت عملی کے باعث صدارتی انتخاب کے موقع پر متحدہ اپوزیشن کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ پیپلز پارٹی پارلیمٹیرینز اور تحریک انصاف کی قیادت کے غیر لچک دار رویہ نے متحدہ اپوزیشن کے قیام کا نادر موقع گنوا دیا جبکہ دوسری طرف وزیراعظم محمد نواز شریف نے نائن زیرو کی سیڑھیاں چڑھ کر ایم کیو ایم تعلقات کار قائم کرنے سے پیش رفت کی ہے۔ وہاں جمعیت علماءاسلام (ف) کو دو وزارتوں‘ دو مجالس قائمہ کی چیئرمین شپ‘ تین ممالک کی سفارت کاری اور اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ کی پیشکش کر کے ڈھیر کر لیا۔ جمعیت علماءاسلام (ف) کے اکرم درانی اور مولانا عبدالغفور حیدری آئندہ چند دنوں میں وفاقی کابینہ کے رکن ہوں گے۔ وزیراعظم نے پارٹی کے اندر مخالفت کے باوجود ایم کیو ایم کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ ایم کیو ایم بھی آئندہ چند دنوں میں وفاقی کابینہ کا حصہ ہو گی۔ ذرائع کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کو رام کرنے میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان‘ وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور محمد اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات پرویز رشید نے اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کا وفد ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں جلد وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کرے گا۔ ایم کیو ایم کی وفاقی حکومت میں شمولیت کا امکان ہے۔